محنت کی برکتیں

محنت کے معنی ہیں دکھ یا تکلیف اٹھانا اور مشکلات کا برداشت کرنا۔خدا نے ہر انسان، حیوان، پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے محنت کو لازم قرار دیا ہے۔زندگی کی ترقی کا دارومدار محنت پر منحصر ہے۔دنیا کی ترقی کا راز محنت میں ہی پوشیدہ ہے۔

علم وہنر، جاہ وجلال، شان وشوکت فضل وکمال سب کچھ محنت کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔محنتی لوگ ہی دنیا میں ہر طرح کی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ایک کسان یا زمیندار کو دیکھئے کہ وہ محنت سے زمین میں ہل چلاتا ہے،کھاد ڈالتا ہے، بیج بوتا ہے، وقت پر پانی دیتا ہے اور آخر اس کی محنت کا پھل اسے مل جاتا ہے۔لاکھوں من غلہ پیدا ہوتا ہے جس سے اس کی زندگی خوشی میں بسر ہوتی ہے۔جولوگ محنت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل اور رسوا اور ترقی سے محروم رہتے ہیں۔

محنت اندازہ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اپنی طاقت سے بڑھ کر محنت کرنا بڑی اور شدید قسم کی غلطی ہے۔اگر محنت حد سے گزر جائے تو انسان بیمار ہوجاتا ہے۔اس لیے اپنی صحت کے مطابق محنت کی جائے تو انسان تندرست اور خوش و خرم رہے گا۔بعض طلبا اتنی محنت کرتے ہیں کہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اگر طلباء آہستہ آہستہ محنت کریں تو وہ اپنے مقاصد میں بخوبی کامیاب ہوسکتے ہیں۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ "جان ہے تو جہاں ہے”ایسا سخت کام نہ کرو جس سے صحت میں فرق آنے کا گمان ہو۔سب سے ضروری چیز صحت ہے، صحت کے بغیر محنت ناممکن ہے۔پس محنت کرنا ضروری ہے مگر اعتدال کو مد نظر رکھ کر۔ محنت تندرستی امارات اور عزت کا ذریعہ ہے۔محنت سے انسانی اخلاق پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔انسان گناہ یا بیکاری سے دور رہتا ہے۔

دنیا میں جتنے فلاسفر، علماء،اولیا یا قومی رہنما ہوئے ہیں وہ تمام محنت کے عادی تھے اور انہوں نے اسی کی بدولت دنیا میں عزت اور عظمت حاصل کی۔دنیا کی تمام رونق محنت سے وابستہ ہے۔محنت کند ذہن کو ذہین اور نالائق ذہن کو لائق بنا دیتی ہے۔ہماری قسمت کا تعلق بھی محنت پر موقوف ہوتا ہے۔قسمت کا بنانے والا خود انسان ہے۔قسمت ہمارے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگر ہم محنتی ہونگے تو قسمت بھی اچھی ہوگی۔انسان جب محنت کرتا ہے تو کاہلی دور ہو جاتی ہے، چہرے کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے،راحت حاصل ہوتی ہے دولت اور ترقی قدم چومتے ہیں۔محنتی انسان اپنا وقت فضول گپ شپ میں ضائع نہیں کرتا وہ ہر کام وقت پر انجام دیتا ہے۔اس کا پیسہ فضول کاموں میں خرچ نہیں ہوتا۔ وہ جوانی کی محنت کا پھل بڑھاپے میں حاصل کرکے کھاتا ہے۔

اگر ہمارے آباؤاجداد نے محنت نہ کی ہوتی تو وہ کس طرح مذہب، ترقی یافتہ اور متمدن لوگ بن جاتے۔دنیا میں جو ایک ویران جگہ تھی ہمارے آباؤاجداد کی وجہ سے گلزار میں تبدیل ہو گئی ہے۔ورنہ دنیا ویران اور بنجر جگہ ہوتی۔گلستان، باغ، مکان، بازار، نظارے سب کچھ انسان کی محنت کا پھل ہیں۔غرض وہ آدمی جو محنت کرتا ہے وہی ترقی اور عروج حاصل کرتا ہے اور جو آدمی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے وہ کچھ نہیں کر سکتا۔

مولانا حالی فرماتے ہیں؀

جو کرتے ہیں محنت مشقت کو زیادہ
خدا ان کو دیتا ہے برکت زیادہ

دنیا میں یہ رونق اور خوبصورتی اور مناظر قدرت سب کچھ انسان کی محنت کی وجہ سے ہوا ہے۔دنیا میں اسی قوم نے ترقی پائی جس نے محنت و مشقت سے کام لیا ہے اور ایک کاہل اور آرام پسند قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔

یہ برکت ہے دنیا میں محنت کی ساری
جہاں دیکھیے فیض اسی کا ہے جاری

یہی ہیں کلید در فضل باری
اسی پر ہی موقوف عزت ہماری

اسی سے ہے قوموں کی یاں آبرو سب
اسی پر ہیں مغرور میں اور تو سب

الغرض ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے آباؤ اجداد کی طرح محنت و مشقت سے کام لیں اور ان کا نام روشن کریں۔محنت کرنے والا انسان خدا کو بھی عزیز ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ ایک محنتی بچہ اپنے ماں باپ کو بھی بہت پسند ہوتا ہے۔محلے میں ہر ایک اس کی عزت کرتا ہے۔محنت کے آگے کوئ بھی ناممکن کام ممکن بن جاتا ہے۔اگر ہم دل لگا کر اور محنت کے ساتھ اپنی پڑھائی کریں تو خدا کی قسم وہ دن دور نہیں جب ھم کلاس میں اول درجہ پر آجائیں۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ محنت کر کے ہم اپنا اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کریں اور اپنے مستقبل کو سنواریں۔

A Quiz On Pakistan

Close