روزہ پر ایک مضمون

جب رمضان کے مہینے کا چاند نظر آتا ہے تو مسلمان پورے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہیں اور روزہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں ایک رکن ہے۔ یہ پورا مہینہ صدقات، خیرات اور عبادات کا مہینہ ہوتا ہے۔ پورے مہینے میں عبادات کا بڑا ثواب ہے۔ پرہیز گاری، زہد و تقوی کے لیے اس مہینے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

صبح صادق سے پہلے جاگ کر سحری یعنی کھانا کھایا جاتا ہے اور پھر سورج کے غروب ہونے تک کچھ نہیں کھایا جاتا اسی کو روزہ کہا جاتا ہے۔ سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطارکیا جاتا ہے اور پھر کھانا کھا کر مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد عشاء کی نماز کے ساتھ ہی تراویح کی نماز بھی پڑھی جاتی ہے اور پھر خدا کی بارگاہ میں گناہوں سے مغفرت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

روزہ سے ہر شخص پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فاقہ کشی کی حالت کیا ہوتی ہوگی۔ روزہ کی برکت سے نفسیاتی خواہشات پر قابو پا کر انسان ایک پاکیزہ زندگی کی طرف قدم رکھتا ہے۔

روزہ رکھنے سے بہت سی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ اس سے انسان کی روحانی پاکیزگی ہونے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ روزہ جسمانی پاکیزگی اور صحت کے لئے بھی ضروری ہے کئی بیماریوں کے لئے روزہ بہترین علاج ہے۔ انسان میں ضبط نفس، صبر اور صالح زندگی کی ترغیب ملتی ہے۔ وہ برائیوں کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ برے خیالات اور بدکرداری سے دور رہنے کی تلقین ہوتی ہے۔ لیکن قرآن کریم کے مطابق روزہ مریض اور بیمار کے لیے ضروری نہیں ہے اور اگر مریض یا بیمار صاحب ثروت ہے تو اس کے عوض غریبوں کو ساٹھ دن کے لیے کھانا کھلانا ہوتا ہے۔ اگر صاحب ثروت نہیں تو اس کے لئے معاف ہے۔

روزہ سے مراد صرف بھوکے رہنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد جسم کے ہر عضو کا روزہ ہوتا ہے۔ دل اور دماغ ہاتھ اور پاؤں کا بھی روزہ ہوتا ہے۔ نماز کے علاوہ اس مہینے کے دوران میں قرآن کی تلاوت کرنے کا بڑا ثواب ہے اور اس کے لئے اجر عظیم ہے۔ مساجد میں بعض امام حضرات قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر خدا سے گناہوں کی مغفرت مانگی جاتی ہے۔ اس مہینے میں ہر انسان اللہ پاک کی بارگاہ میں عجزو انکساری کے ساتھ دعا مانگتا ہے کہ اے اللہ میرے دل کو دین اسلام پر ثابت قدم کردے۔

یہ مہینہ سراسر برکت والا مہینہ ہے۔اس مہینے میں ہر انسان زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے ہیں۔ نادار لوگوں کو صدقہ دیا جاتا ہے۔ شوال کا چاند دیکھ کر روزہ کھولا جاتا ہے اور شوال کی پہلی تاریخ کو عید منائی جاتی ہے۔ عید کے دن نہا دھو کر پاک کپڑے پہن کر دن چڑھتے ہی دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے اور روزوں کے مہینے کے پورا ہونے پر یہ دن دراصل شکرانے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ نماز ادا کرنے کے بعد مسلمان دوستوں، رشتہ داروں اور عام مسلمانوں سے گلے ملتے ہیں اور راستے میں تکبیریں پڑھ کر گھر جا کر کھانا کھاتے ہیں اور اس طرح رمضان کے روزوں کے بعد شکرانے کے طور پر عید منائی جاتی ہے۔


اسلامک سوالات کا Quiz کھیلیں

Close