Advertisement

مجھے بچپن سے شعر سننے کا شوق ہے۔ شعر کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً قصیدہ، مرثیہ، رباعی، قطعہ، غزل۔ ان میں غزل مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ میں نے اکثر غزل گو شعراء کا کلام پڑھا ہے۔ داغ، حسرت، فانی، غالب سبھی کے کلام کے نمونے نظر سے گزرے ہیں لیکن جو لطف غالب کی غزلوں کو پڑھ کر آتا ہے کسی اور کی شاعری سے نہیں حاصل ہوتا۔ اس لیے مجھے “دیوان غالب” سے خاص محبت ہے۔ میں اسے حرز جان سمجھ کر عزیز رکھتا ہوں‌۔ جب کبھی جی اداس ہوتا ہے یا فرصت کے لمحات گزارنے کو کوئی شغل نہیں ہوتا، دیوان غالب اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ اس کی غزلیں کہیں بار پڑھ چکا ہوں لیکن ہر بار پڑھنے پر کوئی نہ کوئی نیا نقطہ سوجھتا ہے اور نیا لطف آتا ہے۔ اس سے غالب کے فن کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔

Advertisement

غالب کے کلام کی دلکشی کی کئی وجوہات ہیں۔ اس میں فلسفہ بھی ہے اور موسیقی بھی۔ انسانی سماج سے متعلق کئی ایک مسائل پر غالب نے اظہارِ خیال کیا ہے۔ عشق و محبت پر اس نے لکھا ہے:

Advertisement
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلا

پھر فرماتے ہیں۔

پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک

ایک اور شعر ملاحظہ ہو۔

Advertisement
یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

اخلاق سے متعلق غالب کا شعر ملاحظہ فرمائیں۔

بس کہ مشکل ہے ہر کام کا آسان ہونا
جو آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

یاس و حرماں پر غالب کا بے مثال سے پڑھئے۔

Advertisement
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

خودداری کا مضمون جس ادا اور حسن بیان کے ساتھ غالب نے ظاہر کیا ہے شاید ہی کوئی دوسرا شاعر کر سکا ہو۔

مارا دیار غیر میں مجھ کو وطن سے دور
رکھ لی میرے خدا نے میری بے کسی کی شرم

گھر کی ویرانی کو غالب نے انتہائی ندرت بیان کے ساتھ ادا کیا ہے۔

Advertisement
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

غالب کی شوخی اور ظرافت میں کمال کی ہے۔

بوسہ نہیں نہ دیجیے دشنام ہی سہی
آخر زباں تو رکھتے ہو گر وہاں انہیں

درحقیقت کلام غالب میں ہر عمر اور ہر مذہب کے موافق مواد مل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کے اسے بچے بھی شوق سے پڑھتے سنتے ہیں اور بڑے بھی۔ جاھل اور عاقل بھی اس کے اشعار سن کر سر دھنتے ہیں۔ کوئی اس کلام کے فلسفہ کی وجہ سے اور کوئی کلام کی موسیقی اور فن کاری کے سبب۔

Advertisement

جو چیز سب سے زیادہ مجھے دیوان غالب کی طرف مائل کرتی ہے وہ ہے غالب کا بے نظیر فن۔وہ خیال کو بالکل اچھوتے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی ترکیب الفاظ، چستی، بندش اور حس‌ ادا سب سے نرالی ہے۔ غالب ظرافت کے پردے میں نہایت لطیف باتیں کہہ جاتے ہیں۔ بات سے بات پیدا کرنا کوئی ان سے سیکھے۔ایجاز بیان ان کے کلام کا خاص جوہر ہے یعنی تھوڑے لفظوں میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔پڑھنے والا جوں جوں شعر کے معنی پر غور کرتا ہے اسے نئی نئی باتیں معلوم ہونے لگتی ہیں۔ جو خیال یا خوبی بیان پہلی اور سرسری نظر سے اوجھل رہتی ہے دوسری بار پڑھنے پر آشکار ہوجاتی ہے۔ گویا غالب کے شعر دفینے کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ دفینہ دماغی کاوش سے حاصل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ فرمائیں۔

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا میری جو شامت آئی
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے

بقول رشید احمد صدیقی:
” اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا تو میں بے تکلف تین نام لوں گا۔ غالب، اردو اور تاج محل”۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ غالب کا مقام کس قدر بلند ہے اور کیوں لوگ اس کے کلام کے دلدادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے “دیوان غالب” سب کتابوں سے زیادہ پسند ہے۔

Advertisement