خدمت خلق پر ایک مضمون

انسان کہلانے کا وہی شخص مستحق ہے جو دوسروں کے لئے دل میں درد رکھتا ہو دوسروں سے محبت کا سلوک روا رکھتا ہو۔ان کی مصیبت میں مدد کرتا ہو۔الغرض "انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے جئے۔اپنے لیے تو حیوان اور کیڑے مکوڑے بھی زندہ رہتے ہیں”۔اس کہاوت کی تہ میں بھی یہ خیال ہے کہ انسان دوسروں کے بھلے کے لیے جئے۔

انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے، اسے تمام جانداروں سے افضل اور برتر مانا گیا ہے یہ درجہ اور رتبہ اسے صرف اس حالت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے غم میں شریک ہو۔دوسروں کا مصیبت میں ہاتھ بٹائے، ان کی مدد اور خدمت کرے۔خدمت اور ایثار کا جذبہ ہی انسان کو دوسرے جانداروں سے افضل بناتا ہے۔

دنیا کے ہر مذہب میں خدمت خلق پر زور دیا گیا ہے۔اگر انسان کسی مظلوم یا دکھی کی مدد نہیں کرتا تو وہ جانور ہے بلکہ اس سے بھی گیا گزرا ہے۔اسے تو ایک وفادار کتا بھی بہتر ہے جو اپنے مال کی خدمت اور محبت میں اپنی جان بھی قربان کر دیتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں صرف اس قوم نے بلند رتبہ پایا جس کے افراد میں خدمت خلق کا جذبہ موجود تھا۔اگر افراد میں باہمی محبت اور ہمدردی نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کے لیے قربانی کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو گویا وہ ایک ایسی قوم کے افراد ہیں جس کا شیرازہ منتشر ہو چکا ہے۔گویا قوم کے سلسلہ کی کڑیاں الگ الگ ہیں۔ایسی قوم بدبختی کا شکار ہو جاتی ہے۔ جب اس پر کوئی آفت نازل ہوتی ہے تو لوگوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔وہ غرض کے بندے قوم کی مصیبت میں شریک نہیں ہوتے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ قوم باہمی پھوٹ کے سبب محکوم ہو جاتی ہے۔وہ کسی دشمن کے حملہ کی تاب نہیں لا سکتی۔اس لئے قوم کی قوت اور خوشحالی کا راز افراد کے جذبۂ خدمت و ایثار میں پنہاں ہے۔

سماج میں خدمت خلق ہر انسان پر فرض ہے۔بوڑھوں کی تیمارداری کرکے ان کی دعائیں لینا نوجوانوں کی سعادت ہے، بیواؤں کی مدد کرنا عاقبت کو سنوارنا ہے، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا باعث ثواب ہے،اس سے نہ صرف خدائے پروردگار کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے بلکہ خدمت کرنے سے دل کو راحت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔خدمت کرنے والا یوں محسوس کرتا ہے گویا اس نے اپنے کندھے سے فرض کا بھاری بوجھ اتارا ہے۔دنیا میں نیک اعمال ایسے بیج ہیں جن کا پھل آخرت میں ملتا ہے۔خدمت خلق کے جذبے کے بغیر سماج قائم ہی نہیں رہ سکتا۔اگر قحط، بھونچال اور وبال کی صورت میں لوگ مصیبت زدوں کی امداد نہ کریں گے تو ہزاروں انسان لقمہ اجل ہو جائیں۔ملک میں اگر خیراتی ہسپتال، سکول، سرائیں، یتیم خانے، ودھودہ آشرم، اپاہج آشرم اور اس قسم کے دوسرے ادارے نہ ہوں تو کئی بے کسوں اور مجبوروں کے لئے زندگی وبال بن جائے۔ جہالت اور بیماری کے دردناک مناظر جابجا دکھائی دیں اسی لئے تو خداوند تعالیٰ نے انسان کے دل میں خدمت خلق اور محبت کے جذبات ودیعت کیے ہیں۔ ہر انسان میں نیکی کا شائبہ ہوتا ہے۔بعض بدکرداروں میں یہ نیکی دب جاتی ہے۔مطلقا زائل نہیں ہوتی ان کی ضمیر بھی گناہ کرنے پر ان کو کوستی ہے لیکن وہ ضمیر کی لعن طعن سے لاپروا ہوجاتے ہیں۔ بار بار نیکی کی تلقین سے ان کی اصلاح ممکن ہے۔

ریڈ کراس سوسائٹی (Red Cross Society) خدمت خلق کے لیے ہی وجود میں آئی ہے۔یہ بلا لحاظ مذہب و ملت، ملک و قوم، رنگ و نسل تمام ستم زدوں کی خدمت بجا لاتی ہے۔دنیا میں کہیں کوئی بلائے آسمانی نازل ہو یہ مصیبت زدوں کی امداد کو فوراً پہنچتی ہے۔جنگ میں زخمی فوجیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ ریکھ بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔اس سے دنیا کے تمام ممالک کی حمایت اور امداد حاصل ہے۔اس قسم کی انجمنیں جتنی زیادہ ہوں کم ہیں۔انسان کا اصلی مذہب ہی محبت اور خدمت خلق ہے۔ باقی سب کچھ ڈھونگ ہے محض رسومات کی پابندی انسان کو انسان نہیں بناتی۔مندر، مسجد، گوردوارے میں جانے سے آدمیت کی خاص نہیں ہوتی۔آدمیت تو دل کی صفائی، نیک اعمال، خدمت خلق اور محبت و رواداری کا دوسرا نام ہے۔

خدمت خلق کی کئی صورتیں ہیں۔محتاجوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا،بیماروں کی تیمارداری کرنا، زخمیوں کی مرہم پٹی کرانا، گمراہوں کو راستہ بتانا، بوڑھوں اور بچوں کو سڑک پار کروانا،اندھوں اور اپاہجوں کی مدد کرنا، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا، بیواؤں کی امداد کرنا، ان پڑھ کو پڑھانا، کمزور کو جابر سے بچانا، حادثہ کے شکار کو ہسپتال پہنچانا، کسی بھولے بھٹکے بچے کو اس کے گھر پہنچانا یا پولیس تھانے کے حوالے کرنا وغیرہ۔درحقیقت انسان خدمت خلق سے فرشتے پر بھی سبقت لے جا سکتا ہے البتہ قربانی اور زحمت کی ضرورت ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؀

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ



Close