Advertisement

خود اعتمادی خود یقینی کا دوسرا نام ہے۔ یہ خوبی انسان کے بہترین اوصاف میں شمار ہوتی ہے۔ جس آدمی میں خود اعتمادی کی صفت ہو وہ بہترین انسان سمجھا جاتا ہے۔ خود اعتمادی والا انسان دنیا میں بہت آگے جا سکتا ہے۔

Advertisement

خود اعتمادی کا مطلب ہے اپنی ذات پر آپ بھروسہ کرنا۔ ایسا انسان زندگی کے ہر مرحلے میں کامیاب اور کامران ہوتا ہے۔ دنیا کی کوئی تکلیف اور مصیبت اس کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ خوداعتماد انسان دشمن کو زیر کر سکتا ہے۔وہ اپنی صفت سے دشمنوں کی صفوں کو اس طرح چیرتا ہوا نکل جاتا ہے جس طرح ایک تیز رفتار جہاز بادلوں کو چیرتا ہوا نکل جاتا ہے۔ دراصل خود اعتمادی انسان کی ہمت اور استقلال کا نام ہے۔

Advertisement

خود اعتمادی سے دنیا کے عظیم اور اھم کار سرانجام پائے جاتے ہیں۔ جو لوگ دنیا میں بڑے ہوئے ہیں انہیں اپنے نفس پر پورا بھروسہ تھا یہی سبب ہے کہ دنیا کی کوئی مشکل اور کھٹائی ان کے پائے استقلال میں جنبش نہ لاسکی۔ خوداعتمادی والے انسانون نے دنیا میں نہ صرف اپنا نام روشن کیا ہے بلکہ بسا اوقات اپنی قوم کو بام عروج پر پہنچایا ہے۔مولانا شبلی، مولانا حالی، مرزا غالب، علامہ اقبال، محمد علی جناح گاندھی جی وغیرہ ایسے افراد گزرے ہیں جنہوں نے اپنی خود اعتمادی اور ہمت سے پوری دنیا کے لوگوں کا دل جیت لیا۔ان لوگوں نے ہمت اور حوصلے سے کام لے کر اپنا مشن جاری رکھا انگریزوں کی حکومت نے ان کو ڈرایا اور دھمکایا لیکن یہ سب بزرگ خوداعتمادی کے جذبے کے بل بوتے پر آگے بڑھے اور قوم کو سیدھا راستہ دکھایا۔

Advertisement

خود اتمادی والے انسان کو اپنے کام کی درستی پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے۔مخالف حالات سے اس کے ارادوں اور استقلال میں ذرہ بھر فرق نہیں آتا۔وہ ایک چٹان کی طرح اپنے مقصد کے لئے ڈٹ جاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت جلد کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔

خود اعتمادی انسان کو اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ وہ اپنی تقدیر آپ بناتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑنے کے لیے کسی پر بھروسہ نہیں کرتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ خود اعتمادی والے انسانوں نے اپنی قسمت آپ بنائی ہے۔ صلاح الدین ایوبی، بابر اور کتنوں کے نام لیے جائیں، خود اعتمادی والے لوگوں کی ایک پوری کہکشاں ہے جنہوں نے اپنی خود اعتمادی سے دنیا کو درس دیا ہے۔

Advertisement

علامہ اقبال کی خودی کا نظریہ دراصل اپنے پر اعتماد نہ کرنے والا تقدیر کے ہاتھوں میں بس ہوتا ہے۔مگر خود یقینی رکھنے والا انسان اپنی تقدیر کا خالق خود ہوتا ہے۔ بے اعتماد انسان کے نزدیک انسان کچھ بھی نہیں۔ وہ تقدیر کے ہاتھوں بے دست و پا ہے لیکن خود دار اور خود اعتمادی والے سب کچھ ہوتے ہیں۔ خود اعتمادی کی بدولت دنیا میں بڑے بڑے اور نئے نئے انکشافات اور ایجادات ہوتی ہیں، جیسے ہوائی جہاز، ریڈیو، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر وغیرہ۔ اور ستاروں پر کمند لگانے والے بھی خود اعتمادی کے جذبے سے سرشار لوگ ہی ہوتے ہیں اور چاند پر بھی وہی جا سکتے ہیں۔

خوداعتماد والے شیشے کی طرح رجائیت پسند ہوتے ہیں۔ وہ مخالف حالات میں بھی اپنے مقصد کی کامیابی سے ناامید نہیں ہوتے۔ گزرے ہوئے زمانے میں ہمیں اس کی بہترین مثال دوسری بڑی لڑائی کے دوران ملتی ہے کہ کس طرح اتحادیوں نے ہٹلر کو اپنی خوداعتمادی کے جذبے سے کام لے کر شکست فاش دی۔

Advertisement

خود اعتمادی کسی قوم کا کردار بناتی ہے اس کے برعکس بےیقین قوم کا کردار کچھ بھی نہیں ہوتا۔ خود اعتمادی دیگر انسانوں کی طرح طالب علموں کے لئے بھی نہایت ضروری ہے۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے ذہین طلبہ وطالبات اپنے امتحانات میں اس لیے ناکام ہوتے ہیں کہ ان میں خود یقینی نہ تھی، وہ اپنے ہر ایک سبق کو شک کی نظروں سے دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہوتی کہ وہ امتحان کے موقع پر ناکام رہے۔ اس کے برعکس بہت سے کند ذہن طلبہ خود یقینی کی وجہ سے نہایت اعلی نمبرات پر کامیاب ہوتے ہیں۔ خود یقینی اور خود اعتمادی کی وجہ سے انسان اپنی جماعت کی قلت کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔

خود اعتمادی عزت نفس کا قائل ہوتا ہے۔ وہ ناداری کی حالت میں بھی کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتا۔ ہمت حوصلے اور استقلال سے کام لے کر پتھر سے لعل اور مٹی سے سونا نکالتا ہے۔ بہت سے بے بس انسانوں کی خود اعتمادی نے دنیا کو بلند مراتب پر پہنچا دیا۔ اس کے برعکس بہت سے بے یقینی کی بیماری کی وجہ سے مصیبت میں گرفتار ہوئے۔

Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement