طالب علم کے فرائض

طالب علم کا پہلا فرض

طالب علم کا سب سے پہلا اور بڑا فرض اپنے آپ کو اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کے کھیل کود بھی ضروری ہیں۔ جسمانی صحت حاصل کرنے کے لئے دوڑڑنا، کودنا اور کھیلنا لازم ہے۔ اگر جسم کمزور ہوگا یا اس میں کوئی نقص ہوگا تو اس کی دماغی صحت بھی بگڑ جائے گی۔

ایک علم نفسیات کا قول ہے کہ سلیم و صحیح دماغ صرف صحت مند اور صحیح جسم میں ہی رہ سکتا ہے۔ اس لیے ہم جسمانی ورزش اور صحت کی ضرورت سے انکار نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بچے زیادہ تر وقت کھیلنے کودنے میں صرف کر دیتے ہیں اور اپنی تعلیم اور پڑھائی سے غافل ہو جاتے ہیں۔ جو کام وقت پر کرنے کے لئے استاد دیتا ہے وہ اسے نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہم جماعت طلباء سے تعلیم میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور بعض طلباء تو متواتر سکول کا کام نہ کرنے کے سبب امتحان میں ناکام رہتے ہیں اور تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور ہمیشہ کے لئے ایک جاھل اور ان پڑھ آدمی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ اس لیے ہر طالب علم کا فرض ہے کہ کھیل کود اور ورزش کے ساتھ ساتھ اپنا بیشتر وقت لکھنے پڑھنے میں صرف کرے۔ داناؤں کا مقولہ ہے کہ علم بڑی دولت ہے جسے کوئی چور بھی نہیں چرا سکتا اور یہ دولت انسان کے زندگی بھر کام آتی ہے۔

طالب علم کا دوسرا فرض

طالب علم کا دوسرا بڑا فرض ہے ماں، باپ، استاد اور دوسرے بزرگوں کا ادب کرنا اور ان کے احکام بجا لانا۔ جو بچہ ماں باپ کی عزت کرتا ہے اور ان کی خدمت کرنے کو آمادہ رہتا ہے اسے نہ صرف اس دنیا میں راحت اور سکون حاصل ہوتا ہے بلکہ سعادت ابدی نصیب ہوتی ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں کی پرورش تعلیم و تربیت اور ترقی کے لئے خون پسینہ ایک کر دیتے ہیں ض۔ وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی ان کا پیٹ پالتے ہیں۔ داناؤں کا قول ہے کہ انسان کے لئے ماں کا درجہ سب سے بلند ترین درجہ ہے۔ وہ اپنے بچے کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرتی ہے۔ راتوں کو جاگ جاگ کر اس کی تیمار داری کرتی ہے۔ اس کے علاج کے لئے مارا مارا دربدر پھرتی ہے۔اپنے کھانے کو کچھ میسر نہ ہو اس کی دوائی کے لئے ضرور ہونا چاہیے۔ خود بھوکی رہے گی مگر بچے کو بھوکا بلبلاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ وہ ہر حیلے بہانے سے اس کا پیٹ بھرے گی۔ اس لئے وہ بچہ جو بڑا ہو کر ماں باپ کی خدمت اور مدد سے منہ موڑ لیتا ہے نہایت بد بخت ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کی اعلی تعلیمات اکارت رہ جاتی ہے۔ اس کی دولت اس کے لئے باعثِ لعنت ہوتی ہے۔

طالب علم کا تیسرا فرض

طالب علم کا تیسرا فرض سماج کے تئیں ہے۔ اسے چاہئیے کہ اپنے اوس پڑوس میں رہنے والے حاجت مندوں کی مدد کرے۔ بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھائے۔ محلے کے ایسے بچوں کو لکھنے پڑھنے میں مدد دے جو تعلیم میں پیچھے ہوں۔ اگر کہیں آگ لگ جائے یا کوئی حادثہ رونما ہو تو جائے واردات پر جاکر مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرے۔ اگر کوئی آدمی سرکاری جائیداد کو نقصان پہنچاتا یا سرکاری مال چوری کرتا دکھائی دے تو فوراً پولیس تھانے میں اس کی اطلاع پہنچائے۔ سماج سیوا کا خیال بچپن ہی میں پیدا کرنا ضروری ہے۔ یہ تو بچے کی تعلیم کا ہی حصہ ہے۔

طالب علم کا چوتھا فرض

طالب علم کا ایک اور فرض یہ ہے کہ اپنی قومی تاریخ اور روایات کا بہ دل و جان مطالعہ کرے تاکہ اس میں حب وطن کا جذبہ پیدا ہو اور ترقی کرے۔ نوجوان ہی ملک کی بہترین دولت ہوتے ہیں وہی قوم کے سپاہی اور آزادی ملت کے محافظ ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر ان کی تعلیم صحیح طریق پر نہ ہوگی تو وہ اچھے شہری نہیں بن سکتے۔طالب علم میں بچپن سے ہی وطن اور قوم کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔

کوئی بھی ملک ترقی کی منزلیں طے نہیں کر سکتا اور خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ جب تک اس کے باشندے قربانی پر آمادہ نہ ہوں۔ وطن کی آزادی اور قوت کے ساتھ ہی اہل وطن کی عزت اور راحت وابستہ ہے۔ اگر ملک کمزور ہے تو آزادی سے محروم ہو جائے گا اور سارے اہل ملک غلام بن کر رہ جائیں گے۔اور جو حشر ایک غلام کا ہوتا ہے اس سے خدا دشمن کو بھی بچائے۔ اس لیے طالب علم کا یہ مقدم فرض ہے کہ تاریخ عالم سے بھی واقف ہو اور اپنے ملک کی تاریخ سے بھی، تاکہ اس پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ غلام اور آزاد میں کیا فرق ہے اور آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے اور برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

طالب علم کا پانچواں فرض

طالب علم کا یہ بھی فرض ہے کہ ایسی تعلیم حاصل کرے جو اس کی طبعی قوتوں اور حجانوں کے موافق ہو اور عملی زندگی میں اس کے آڑے آئے۔ محنت اور ہاتھ سے کام سے اسے ہرگز عار نہ ہونا چاہیے۔سادہ زندگی اور بلند خیالی اس کا اصول ہونا چاہیے۔ راستی، ایمانداری، ہمدردی، تعاون، ایثار، خدمت خلق اور دوسرے ایسے اوصاف اور جذبات حاصل کرنا ہر بچے کا فرض ہے۔ کیونکہ ایسے نیک اوصاف اور جذبات رکھنے والے انسان ہی ملک کی ترقی قوت اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔



Close