انٹرنیٹ پر ایک مضمون

ایک زمانہ تک حضرت انسان چاند ستاروں اور سیاروں کو حیرت و حسرت سے دیکھا کرتا تھا اور پھر انسان نے اپنی خودی کو پہنچانا اور عقل کے نور سے اس کے اندر شعور و آگاہی کی شمعیں فروزاں ہو گئیں۔خودی کے نور نے انسان کو بلند پروازی، بلند خیالی اور بلند نظر عطا کی اور وہ چاند، ستاروں اور سیاروں کو چیرتا ہوا چراغ نیلی فام سے پرے اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا۔

انسان نے ایجادات کے انبار لگا دئیے ہیں۔اس نے محیرالعقول چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں۔ان چیزوں کی ایجاد نے اس کی زندگی کی بہت سی مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کردیا ہے۔زیر نظر مضمون انٹرنیٹ کے حوالے سے ہے اور یہ ایک بہت بڑا مواصلاتی نظام ہے جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔اس نظام کے ذریعے وہ سب کمپیوٹر، جن سے انٹرنیٹ نسب ہوا، آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔دنیا میں کسی کونے میں رہنے والے لوگ نہ صرف ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے مشاہدات، تجربات اور معلومات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

اس محیر العقول ایجاد کا بیج امریکہ میں بویا گیا۔شروع میں انٹرنیٹ کے ذریعے یونیورسٹیوں کی تعلیم و تحقیقی ڈیٹا کا تبادلہ ہوتا تھا اور یہ جدید نظام امریکہ اور لندن میں متعارف تھا۔انٹرنیٹ پیغام رسائی کا جدید ترین اور تیز ترین ذریعہ ہے۔آپ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں،آپ کے خطوط، پیغامات، آپ کی تحریریں تصاویر فوری طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتی ہیں۔آپ اپنے گھر بیٹھ کر امریکہ یا برطانیہ کے کسی اخبار یا وہاں پر موجود کسی کتاب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

جس طرح پرندوں کو کسی ملک میں جانے کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی اس طرح انٹرنیٹ کے ذریعے ویزے یا پاسپورٹ کے صرف ایک بٹن دبانے سے دنیا کی کسی بھی شہر علاقے سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
کسی زمانے میں کمپنیوں کو اپنی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں میں متعارف کروانے کے لیے مہینے اور سال لگتے تھے۔اب انٹرنیٹ میں نئی نئی مصنوعات کی خبریں بین الاقوامی منڈیوں تک فوراً پہنچا دیتا ہے۔اب کسی کاروباری شخص کو کاروبار کے سلسلے میں سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔اب تو وہ اپنے ڈرائنگ روم میں ناشتہ کرتے ہوئے دنیا کے کسی بھی مارکیٹ سے رابطہ کر سکتا ہے۔انٹرنیٹ کے ذریعے وہ نہ صرف مال دیکھ سکتا ہے بلکہ وہ حسب ضرورت خرید کر منگوا بھی سکتا ہے۔

ای میل

ایک زمانہ تھا کہ پیغام رسانی کے لیے کبوتروں کی خدمات لی جاتی تھیں۔پھر گھوڑ سواروں کے ذریعے پیغامات پہنچائے جانے لگے۔بعد ازاں محکمہ ڈاک قائم ہوا اور خطوط کے ذریعے پیغامات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچائے جانے لگے۔اب ای میل کے ذریعے پوری دنیا سمٹ کر آپ کے گھر میں آگئی ہے۔آپ کمپیوٹر پر خط لکھیے اور اسے دنیا کے کسی بھی خطے میں بھیج دیجئے۔آپ جس شخص کو ای میل کر رہے ہوں، اس کا ای میل ایڈریس آپ کے پاس ہونا چاہیے۔اب پیغامات ہفتوں، دنوں اور مہینوں میں نہیں پہنچتے بلکہ یہ ہوا کہ دوش پر منٹوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

ایف-ٹی-پی (file transfer protocol)

ایف-ٹی-پی کے ذریعے کسی بھی کمپیوٹر سے فائل کا حصول ممکن ہے۔بعض اوقات ہمیں پرانا ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے کسی لائبریری، عجائب گھر یا اخبارات ورسائل سے رجوع کرنا ہوتا ہے اسی طرح ریکارڈ فائل کے لیے ہم ایف-ٹی-پی سے رجوع کرسکتے ہیں.آپ اس کی وساطت سے بغیر پہچان کروائے کوئی چیز اپنے کمپیوٹر میں منتقل کر سکتے ہیں۔علاوہ ازیں آپ اس کے ممبر بھی بن سکتے ہیں۔

ٹیل نیٹ

اس کے ذریعے آپ اپنا پاس ورڈ سیٹ کریں اور یہاں بیٹھ کر دوسرے ملک میں موجود کمپیوٹر چلا سکتے ہیں۔
تعلیم کے حوالے سے دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں آکسفورڈ اور ہارورڈ نے انٹرنیٹ کے ذریعہ مختلف کورسس کا اجرا کیا ہے۔طلبہ اپنے پاس ورڈ کے ذریعے کمپیوٹر سے اپنے لیکچرز ڈاون لوڈ کرسکتے ہیں۔ان کورسس کے باقاعدہ امتحانات ہوتے ہیں اور پھر ان امتحانات میں کامیاب ہونے والے طلباء کو اسناد دی جاتی ہیں۔اب تعلیمی دنیا میں ایک انقلاب آ چکا ہے۔علم کے جو خزانے آنکھوں سے اوجھل تھے، اب ان خزانوں سے لوگ گھر بیٹھے مستفید ہو رہے ہیں۔آپ کہیں بھی رہتے ہوں تعلیم کے راستے میں سمندر، صحرا، جنگل اور ریگستان رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ آپ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی علمی میکدے سے اپنا ساغر بھر سکتے ہیں۔اب ذہنوں میں کشادگی آچکی ہے اور سوچیں وسیع ہو چکی ہے۔اب پوری دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

لاریب، انٹرنیٹ نے علم کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیاہے۔انٹرنیٹ نے دوکاندار اور گاہک کے فاصلوں کو مٹا دیا ہے لیکن اس کے کچھ نقصانات بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کے سامنے بیٹھنے والا شخص اتنا سست الوجود ہوجاتا ہے کہ وہ دنیا ومافیا سے بےخبر صرف اسی کا ہوکر رہ جاتا ہے۔اس کی نظر میں زندگی صرف انٹرنیٹ کا نام ہے۔زندگی کے دیگر معاملات اور معمولات اس کے نزدیک بے معنی ہو جاتے ہیں۔اسے باہر کی دنیا سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔وہ اپنی دنیا میں مست اور محور رہتا ہے۔اس کی نیند پوری نہیں ہوتی۔بیٹھ بیٹھ کر اس کے وزن میں اضافہ ہوجاتا ہے۔بالآخر وہ اپنی صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

انٹرنیٹ کے ذریعے اخلاقی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔نئی نسل انٹرنیٹ کا اندھا دھند استعمال کر رہی ہے۔اس کے ذریعے مخرب الاخلاق معلومات بھی حاصل نہیں ہوتی،جو نئی نسل کے اذہان پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ ہماری ضرورت بن چکا ہے۔زندگی کے ہر شعبے میں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ہر شعبے میں ترقی کرنی چاہیے۔جس طرح دیگر ایجادات کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی، اسی طرح انٹرنیٹ کے فائدے بھی ہیں نقصانات بھی۔

اللہ تعالی نے ہر ذی شعور کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔جو لوگ تعمیری سوچ رکھتے ہیں اور اپنی سوچ کو اعلیٰ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔اس دنیا کے بازار ان لوگوں سے بھی بھرے نظر آتے ہیں، جو منفی سوچ کے مالک ہوتے ہیں اور برے منصوبے بناتے ہیں۔یہ اپنی تخریب کاریوں سے لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرتے ہیں۔اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ اس نے کسی ایجاد سے فائدہ اٹھانا ہے یا نقصان۔

A Quiz On Pakistan

Close