ضرورت ایجاد کی ماں ہے

زندگی کا دارومدار ضروریات پر ہے۔اگر ضرورت نہ ہو تو دنیا کے کام ٹھپ ہو جائیں۔آئے دن کئی ضرورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔دراصل حالات کی تبدیلی سے ضروریات بھی بدلتی رہتی ہیں۔عقلمندوں کے دماغ ضروریات کو پورا کرنے کی نئی نئی راہیں نکالتے رہتے ہیں۔انسان تو درکنار، بے زبان اور بے عقل جاندار بھی اپنی حاجت روا کرنے کی کوئی نہ کوئی تدبیر ڈھونڈ لیتے ہیں۔پیاس سے بیکل کوئے نے دیکھا کہ کہیں برتن میں کچھ پانی پڑا ہے،بہتیری کوشش کی لیکن پانی کی سطح تک اس کی چونچ نہ پہنچ سکی۔آخر ایجاد کی ماں اس کے آڑے آئی۔ایک ڈھنگ اسے سوجھ گیا۔آس پاس سے کنکریاں چنیں اور برتن میں ڈال دیں، اسطرح پانی اوپر چڑھ آیا اور کوئے نے پیاس بجھا لی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

علم اور سائنس کی ترقی نے آج ہمیں حیرت انگیز ایجادات سے مالامال کر دیا ہے۔یہ سب ایجادیں محض اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ مدتوں کی دوڑ دھوپ اور محنت کا پھل ہیں۔جوں جوں کوئی نئی ضرورت پیش آتی رہی انسان نے اسے پورا کرنے کی غرض سے ہاتھ پاؤں مارے،دماغ پر زور ڈالا اور آخر اس ضرورت کو پورا کرنے کا نیا طریقہ معلوم کرلیا۔شروع شروع میں جب خدا نے انسان کو پیدا کیا تو وہ ننگ دھڑنگ بن مانس تھا۔جنگلوں میں درختوں پر اور غاروں میں زندگی کے دن گزارتا اور مر جاتا۔کھانے کو درختوں کے پتے تھے اور پینے کو چشموں اور ندی نالوں کا پانی تھا۔آگ کا علم اسے نہیں تھا سورج کی دھوپ سینک کر سردی سے بچتا۔آخر جب شدید سردی سے اڑنے لگا، آفتاب کی حدت سے تڑپنے لگا تو درختوں کی چھال اور جانوروں کی کھال سے اپنے جسم کو ڈھانپنے لگا۔جب بارش آندھی اور اولوں نے ستایا تو درختوں سے اتر کر یا غاروں سے نکل کر گھاس پھوس کے جھونپڑے بنائے۔پھر بھوک مٹانے کے لئے پتوں کے بجائے اس نے پھل کھانے شروع کر دیے۔پھر جانوروں کا گوشت کھانا شروع کر دیا۔جانوروں کو مارنے کے لیے تیرکمان ایجاد کر لیا۔آسمان سے بجلی گری،سوکھے سڑے پتے جل اٹھے، آگ کی تلاش شروع ہوئی۔بالآخر چقماق پتھر مل گیا اور آگ جلانا سیکھ لیا۔

نئی نئی ایجادات سے انسان کی فطری صلاحیتیں بیدار ہوگئیں۔دماغ روشن ہو گئے، عقل تیز ہوگئی، حوصلے بلند ہوئے اور نئ سے نئ ایجادات کے کواڑ کھل گئے۔ترقی کرتے کرتے درختوں کی چھال اور جانوروں کی کھال کے بجائے روئی اور اون کے کپڑے زیب تن ہونے لگے۔پتوں اور پھلوں کی جگہ اناج کی فصلیں پیدا کرکے پیٹ بھرنے لگے۔ طرح طرح کے لذیذ کھانے ایجاد ہوئے۔اسی طرح گھاس پھونس کی جھونپڑی کے بجائے پختہ اینٹوں کے محل کھڑے کردیے اور جدھر دیکھو نظر نیواز کوٹھیاں اور جنگلے جنت کے باغوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ جھونپڑیوں سے دیہات اور دیہات سے شہر پیدا ہوئے۔اب لاکھوں انسان مل جل کر زندگی بسر کرتے ہیں۔جہاں نظر ڈالو چہل پہل ہے بازاروں میں ہر وقت میلہ لگا رہتا ہے۔

اب بار برادری اور سواری کے ذرائع پر دھیان دیں۔اشرف المخلوقات بھلا کیونکر گوارہ کرسکتا تھا کہ اپنے سر پر بوجھ اٹھاتا پھرے اس نے عقل سے کام لیتے ہوئے لکڑی کے تختوں پر بوجھ گھسیٹنا شروع کیا۔اس تکلیف سے بیزار ہوا تو پہیہ ایجاد کیا اور چھکڑا رتھ اور ٹانگہ ایجاد کیا۔ترقی کی تو بائی سائیکل بنا لیا، موٹر کار ایجاد کر لی، ریل گاڑی اور ہوائی جہازوں تک نوبت آئی جانوروں کی جگہ بجلی اور بھاپ کی قوت سے کام لیا۔سمندر پار کرنے کے لیے جہاز بنا لیے۔ڈبکتی کشتیوں کا بھی بازار گرم ہوا، آبشاروں سے بجلی پیدا کی اس کی قوت سے مشینیں چلنے لگیں۔روشنی حاصل ہوئی۔ آبپاشی کے لیے ٹیوب ویل بن گئے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام بھیجنے کے لئے کبوتروں اور سانڈنی سواروں کا سلسلہ شروع کیا لیکن جلد ہی ان کی جگہ ٹیلیفون اوتار ایجاد کیے۔پھر بے تار برقی اور ریڈیو وجود میں آگئے۔اب ایٹم کی قوت سے نامعلوم انسان کیا کیا عجوبات پیدا کرے گا۔اب اس نے راکٹ ایجاد کیا ہے جس سے منٹوں میں ہزاروں میل طے کرنا ممکن ہو گیا ہے۔امریکن ہوا باز خلائی جہاز میں بیٹھ کر چاند کی بھی سیر کر آئے ہیں جو یہاں سے ڈھائی لاکھ میل دور ہے۔اتنا فیصلہ انہوں نے تین دن میں طے کر ڈالا اور چھ دن کے اندر واپس بھی لوٹ آئے۔

اسی طرح زندگی کے ہر شعبے میں انسان نے حیرت انگیز ترقی کی ہے اور نئی نئی چیزیں ایجاد کی ہیں۔جو چیز آج تکلیف میں شمار ہوتی ہے کل کو وہی ضرورت بن جاتی ہے۔اس طرح ان ضروریات کی کوئی حد نہیں اور نہ ہی ایجادات کا کوئی انجام ہے۔دراصل اس دنیا کی حدود کی کوئی انتہا نہیں اور انسان اس کی تحقیق میں مصروف ہے اور قدرت کے رازوں کو فاش کرنے پر تلا ہے۔نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پتے ہے۔اسرار فطرت خواہ کتنے ہی معلوم کرلو— انسان کی پوزیشن پھر بھی قدرت الہی کے مقابلے میں ہیچ ہی رہے گی۔

Close