فٹ بال پر ایک مضمون


یورپ کے ملکوں میں فٹبال کھیلنے کا بہت رواج ہے۔انگلستان والے تو اسے قومی کھیل کا درجہ دیتے ہیں۔اب ہندوستان میں بھی یہ کھیل مقبول ہو چکا ہے۔ جگہ جگہ میچ ہوتے ہیں، فوجی بھی اسے بہت پسند کرتے ہیں۔اکثر ٹورنامنٹ ہوتے ہیں اور جیتنے والوں کو ٹرافی اور انعامات دیے جاتے ہیں۔

فٹبال چمڑے کا ہوتا ہے اور اس کے اندر ربڑ کا بلیڈر ڈال دیا جاتا ہے جس میں ہوا بھر کر گرا لگا دی جاتی ہے۔کھیل کا میدان 110 گز لمبا اور 60 گز چوڑا ہوتا ہے۔اس میدان کی حد بندی کے لیے گھاس پر قلعی چھڑک کر خط کھینچے جاتے ہیں۔چوڑائی والے خطوں کے وسط میں دو دو لکڑی کے کمرے نصب ہوتے ہیں۔ ان کھمبوں کی اونچائی 8 فٹ کے قریب اور درمیانی فاصلہ 25 فٹ کے لگ بھگ ہوتا ہے۔دونوں کھمبوں کے سروں کو اوپر سے ایک لکڑی سے ملا دیا جاتا ہے۔اس مستطیل کھڑے ڈھانچے کا نام گول ہوتا ہے۔۔فٹبال کو ٹھکراتے ہوئے مخالف فریق کے گول میں سے گزار دینا کھلاڑیوں کا نصب العین ہوتا ہے۔

فٹبال کے دو فریق ہوتے ہیں اور ہر فریق میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔گول کے نزدیک ایک طاقتور جوان کھڑا کردیا جاتا ہے جسے گول کا محافظہ یعنی گولچی کہا جاتا ہے۔گولچی سے کچھ دور دو کھلاڑی کھڑے ہوتے ہیں یہ فل بیک کہلاتے ہیں۔ان کے آگے تین ہاف بیک ہوتے ہیں جن کا کام مخالف فریق کی مدافعت اور اپنے فریق کی معاونت ہوتی ہے۔مرکز کے قریب چوڑائی والے حصوں میں متوازی پانچ پیشرو کھڑے ہوتے ہیں۔ان کا کام فٹبال کو مقابل کے گول کی طرف لے جانا اور گول میں سے گزرنا ہوتا ہے۔مقابل کی ٹیم کے کھلاڑی بھی اسی ترتیب سے میدان کے دوسرے آدھے حصے میں کھڑے ہوتے ہیں۔ان 22 کھلاڑیوں کے علاوہ ایک نگران مصنف ہوتا ہے جسے ریفری کہتے ہیں۔ریفری کا کام میچ شروع کروانا اور کھیل کے قواعد کے مطابق انجام دلوانا ہوتا ہے۔

پچھلے سال ایس-پی کالج سرینگر کے وسیع احاطے میں فٹبال کی مختلف ٹیموں کے درمیان میچ ہوئے۔ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے کھلاڑی ان میں شامل ہوئے۔ہر روز دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا، آخری یعنی فائنل میچ دہلی اور ممبئی کی ٹیموں میں ہوا۔اس روز تماشائیوں کا بڑا ہجوم تھا، کیا روح پرور فضا تھی، اور کیا خوب رونق تھی۔میدان کے ایک طرف تھوڑی دور کرسیوں کی قطاریں تھیں۔خوش پوش بوڑھے نوجوان اور بچے بیٹھے تھے۔ ہر شخص ہہی چاہتا تھا کہ کھیل شروع ہو۔کوئی جیب سے گھڑی نکال کر دیکھتا تھا، کسی کی بیتاب نگاہیں ریفری پر جمی تھیں، کوئی کھلاڑیوں کی آمد کا منتظر تھا۔آخر خدا خدا کرکے ریفری کی وسل بجی اور دونوں ٹیمیں میدان میں اتر آئیں۔انہوں نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی، کیا شیڈیول تھے،چہروں پر بشاشت ناچ رہی تھی۔ ریفری نے پیسہ اچھال کر قرںہ نکالا۔ قرعہ بمبئی والوں کے حق میں نکلا ان کے دو پیشرو مرکز کے پاس کھڑے ہوگئے۔ریفری کی وسل پر ایک پیشرو نے بال کو آہستہ سے ٹھوکر لگا کر دوسرے کے حوالے کردیا۔کشمکش شروع ہوگئی، تماشائی چونک اٹھے۔

تھوڑی ہی دیر میں کھلاڑیوں میں جوش پیدا ہو گیا وہ تیزی اور ہوشیاری سے کام لینے لگے۔بال کو ایسے انداز سے ادھر ادھر ٹھوکر لگاتے کہ مخالف منہ دیکھتا رہ جاتا۔اس زور سے ٹھکراتے کہ بال ستارہ بننے لگتا۔نیچے آتا تو غضب کے ڈھب سے سر پر لے لیتے اور اپنے ساتھیوں کی طرف اچھال لیتے۔حریف کو جل دینے کے لیے طرح طرح کے کرتب دکھاتے، بال کا تعاقب کرنے میں گولی بن کر تماشائیوں کے رونگٹے کھڑے کر دیتے۔کسی کھلاڑی نے شرائط کی خلاف ورزی کی تو ریفری نے سیٹی بجا کر گیند وہیں رکھوا لیا۔فریق ثانی کو ایک ٹھوکر یاخط کے قریب سے گیند اچھالنے کا حق حاصل ہو گیا۔یہ تصادم بڑا جوش افزا تھا، گیند کی جان پر بن گئی، تین چار کھلاڑی آپس میں گتھم گتھا ہوئے۔جسم کی لچک اور پھرتی کا پورا پورا مظاہرہ کرنے لگے۔ تماشائی تالیاں بجانے لگے، ایک چھوٹے قد کا تیز رفتار کھلاڑی پاؤں کی دلکش ہیر پھیر سے گوئے سبقت لے گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے بال کو دشمن کی چھاؤنی میں لے آیا۔مقابل کے فل بیک ابھی لپکنے ہی والے کہ تھے کہ اس نے بال کو اپنے ایک ساتھی کی طرف لڑھکا دیا۔اس نے گول کی طرف ایک ایسی زناٹے کی ٹھوکر لگائی کے بال سیدھا محافظہ کی تھوڑی میں جالگا۔ گول کیپر نے بال کو ہاتھوں میں تھام کر اور کچھ قدم دوڑ کر ایسی ضرب لگائی کہ تھوڑی کا بدلہ چکا لیا۔اتنے میں رفیری نے سیٹی بجا کر وقفے کا اعلان کردیا۔

پھر سیٹی بجی اور وقفہ ختم ہوا، کھیل شروع ہوگیا، تمام دہلی کے کھلاڑی سامنے سے ہٹ گئے۔صرف گول کیپر ہی گول میں رہ گیا۔ ممبئی کی ٹیم کے پیشرو نے ایسی بے پناہ ٹھوکر لگائی کہ گیند پار نکل گیا۔بمبئی والوں کی جیت ہوئی۔ یہ بے پناہ ٹھوکر دہلی کی ٹیم کو دنڈ تھا۔دہلوی ٹیم کے فل بیک نے گول کے نزدیک غلطی سے گیند کو ہاتھ سے چھو لیا تھا۔اب دونوں ٹیموں میں نیا جوش پیدا ہوا دونوں فریق جی توڑ کر کھیلنے لگے۔دہلی والوں نے آنآفانا دو گول کر دیے اور اب تھوڑا سا وقت باقی تھا ممبئی والوں نے بے حد کوشش کی کہ کم از کم ایک گول کرلیں تو عزت رہ جائے لیکن آخر میدان دہلی والوں کے ہاتھ رہا۔ریفری نے وسل کر دی اور ممبئی والوں کی آخری امید پر اوس پڑ گئی۔ میچ بند ہوا،ہپ ہپ ہرے کے نعرے لگنے لگے، دنوں ٹیموں کے سالاروں نے ہاتھ ملائے۔ بمبئی کی ٹیم کے کپتان نے بلا افسوس اپنی شکست تسلیم کرلی اور مخالف حریف کو مبارکباد کہی۔اس طرح ایک پرجوش میچ کا خاتمہ ہوا۔

Close