اتفاق پر ایک مضمون

ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا اور ایک رائے قائم کرنا اتفاق کہلاتا ہے۔ اتفاق کے بغیر کسی مقصد کا حاصل ہونا ناممکن ہے۔ انسان نے جب بھی ترقی کی ہے وہ اتفاق اور اتحاد کی قوتوں سے حاصل کی ہے۔ اتفاق کے بغیر دنیا کی تعمیر اور ترقی ممکن نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں تمام کامیابیاں اتفاق کی برکت سے حاصل ہوئیں ہیں۔ اتفاق سے قوموں کی قسمت بدل جاتی ہے اور ملک آباد ہوتے ہیں۔

اتفاق کی بہت سی خاصیتیں ہیں۔ اینٹوں کو ترتیب وار یکجا کرنے سے ایک بڑا مکان بنتا ہے۔گھاس کے بہت سے چھالوں کو اکٹھا کرکے ہم رسی بنا لیتے ہیں جس سے بہت بڑے ہاتھی کو بھی باندھ سکتے ہیں۔ پانی کے بے شمار قطرے ملکر دریا بناتے ہیں۔ ایک قطرے کی کوئی الگ قیمت نہیں ہے۔ اناج کے بہت سے دانے ملکر ایک بڑا انبار بناتے ہیں۔

اتفاق میں وہ طاقت ہے جو ختم نہیں ہوتی۔ اتفاق ہر جگہ ضروری ہے۔ گھر کے افراد میں اگر اتفاق نہ ہو تو گھر خراب ہوجاتا ہے۔ خاندان میں اتفاق و اتحاد نہ ہو تو تباہ ہو جاتے ہیں۔ ملک یا ریاست میں اتفاق نہ ہو تو امن و امان نہیں رہتا اور ہر طرف خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اتفاق سے یہ دنیا جنت بن جاتی ہے اور اگر اتفاق نہ ہو تو جہنم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ امن عالم کو ہر جگہ خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ دنیا کی قوموں میں اتفاق و اتحاد نہیں رہا۔ نفاق اور نفرت کی آگ بھڑک رہی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم پر حسد کرتی ہے۔ خلوص اور اعتبار نہیں رہا۔

اتفاق میں مضبوطی ہے۔ کسی بھی کام میں کامیابی حاصل کرنے کا واحد اور عمدہ طریقہ اتفاق ہی ہے۔ جس قوم یا جماعت میں اتفاق نہیں وہ کمزور ہے۔ اتفاق کی برکت سے ہم ہر ایک منزل پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔ زندگی میں کامیابی کے تمام راز اتفاق میں ہی پوشیدہ ہیں۔



Close