جناب صدر محترم حاضرین اکرام! السلام علیکم! آج کی میری تقریر کا عنوان نظم و ضبط ہے۔

نظم و ضبط کے معنی ہیں انتظام و انصرام کرنا، نظم اور ترتیب، سرکاری یا دفتری امور کا بندوبست۔ نظم و ضبط ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی زندگی کو با اصول بناتا ہے۔ انسان کو صفائی ستھرائی اور تزئین و آرائش سکھاتا ہے۔ نظم و ضبط میں رہنے کی ترغیب اسی لئے دی جاتی ہے کہ ہم سچے اقدار کو اپنائیں ، محنت کو شعار بنائیں، شارٹ کٹ یا سُستی سے پرہیز کریں اور زندگی کو بہتر انداز میں گزار سکیں۔

نظم و ضبط سے مراد ایک نظام، سلسلہ، ترتیب اور بندوبست ہے۔ انسان کے جسم میں جو اعضاء بنائے گئے ہیں وہ سارے کے سارے اپنا اپنا کام ایک مخصوص ضابطے یا قانون کے تحت کرتے ہیں۔ دماغ کے لئے ایک ضابطہ مقرر ہے وہ اس کے تحت کام کررہا ہے۔ جسم کے دوسرے اعضاء بھی ایک مقرر قاعدے کے تحت ہی کام کرتے رہتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قانون اور ضابطہ ایک ایسی چیز ہے جس سے کوئی چیز باہر نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ عقل اور علم ہے۔ اگر انسان ان دونوں کو اچھی طرح سے استعمال کرتا ہے تو وہ بہت بلندی پر جا سکتا ہے۔کسی بھی شخص کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کیا جائے۔ نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے ایسی تربیت بھی اہم ہے جو اسے نظم و ضبط سکھائے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا ۔ کائنات کے ذرّے ذرّے میں نظم و ضبط ہے۔ آسمان کے ستاروں سے پانی کی مخلوقات تک سب کے سب منظم ہیں۔

خود کو فطرت کا ہار جانتے ہیں
سب پرندے قطارجانتے ہیں

نظم وضبط کسی معاشرے کے قیام کی پہلی شرط ہے۔ بانئ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کا مشہور قول ہے: ’’اتحاد، یقین اور تنظیم‘‘ جس قوم میں نظم و ضبط نہیں ہوتا وہ جلد صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوجاتی ہے۔ اسلام کا عروج بھی قومی نظم و ضبط‘ اتحاد و تنظیم کے طفیل ہوا۔

ساتھیو!
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
’’کُل’‘ فی فَلَکٍ یَسبَحُون‘‘

’’تمام اجرامِ فلکی اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں‘‘

نماز باجماعت کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کے ہر ہر فردکو نظم وضبط کی تربیت دی جائے۔ مسجد میں مسلمان پانچ وقت بلا ناغہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں جس سے اُن میں قطار بنانے اور بوقتِ ضرورت صفوں کی صورت میں آناً فاناً کھڑے ہوجانے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔

کبھی کبھار لوگ کوئی ایسا انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں جو ان کے لیے، ان کے اہل خانہ، دوست احباب اور یہاں تک کہ معاشرے کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذا ایسی صورتِ حال سے بچنے کے لئے ہرانسان کو چاہئے کہ وہ اپنے وقت، وسائل اور صلاحیتوں کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی میں منصوبہ بندی اور نظم وضبط جیسے اوصاف کی مدد سے کامیابی حاصل کرکے دوسروں کے لئے عمدہ اور مثبت مثال قائم کرے۔ اس شعر پر اجازت چاہوں گا؀

ملّت کے ساتھ رابطہ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اْمیدِ بہار رکھ

آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements