جناب صدر سامعین معزز!
السلام علیکم!
آج میری تقریر کا عنوان نظم و ضبط ہے۔ آپ سب کی توجہ کا طالب ہوں۔
جناب والا
لفظ ”نظم“ یا ”ضبط“ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ہر جگہ پر ان الفاظ کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ جہاں پر نظم نہیں وہاں بگاڑ اور غیر صحیح نتائج ہی نظر آئیں گے۔ دنیا کا ہر کام کسی نہ کسی ضابطے یا قاعدے کے تحت ہوتا ہے۔ یہ زمیں و آسمان‘ یہ چاند‘ ستارے اور سوج کس نظام کے تحت کام کررہے ہیں؟ یہ سب کسی قاعدے یا قانون کے تابع رہ کر چل رہے ہیں۔ سورج کی گرمی‘ اس کی چمک‘ چاند کی دمک‘ لیل و نہار کا گھٹنا‘ موسموں کا تغیر و تبدل، یہ سب کچھ ایک قانون کے تحت ہورہا ہے۔ سورج کا نکلنا‘ اس کا غروب ہونا‘ زمین کا گھومنا‘ اور رات دن کا وقت پر آنا جانا۔۔ ان سب کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ ان میں سے کوئی عمل اپنے وقت مقررہ سے ایک سکینڈ بھی ادھر ادھر نہیں ہوسکتا۔ یہ سب کسی قانون کی بدولت ہے۔ حیوانات‘ نباتات اور جمادات بھی ایک مخصوص قاعدے کے تابع ہیں۔ غرض کائنات کی ہر چیز کے لئے کوئی قاعدہ مقرر ہے اور وہ اس قاعدے سے باہر نہیں نکل سکتی۔
ایک شعر آپ سب کی خدمت میں؀

خود کو فطرت کا ہار جانتے ہیں
سب پرندے قطار جانتے ہیں

ظم و ضبط اہداف تک پہنچنے کے لئے ایک بہترین وسیلہ ہے اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے آپ منظم پروگرام تشکیل دے کر اپنی زندگی کے لمحات کو خوشگوار اور پُر ثمر بنا سکتے ہیں۔

باجماعت نماز بھی نظم و ضبط اور اجتماعیت کا پنج وقتہ درس ہے کہ دن میں پانچ مرتبہ مسلمان مسجد میں جب اکٹھے ہوں تو یہ احساس رہے کہ سارے مسلمان یک جان ہیں ،الگ الگ نہیں ہیں اور اس جماعت کی اتنی اہمیت بتائی گئی ہے کہ جنگ کے دوران بھی ترک کرنے سے گریز کیا گیا۔

نظام کائنات میں بھی سال میں ماہِ رمضان، شوال، رجب سب اپنے اپنے منظم طریقے سے آتے جاتے ہیں۔ کبھی اس نظم ضبط میں بگاڑ نہ پیدا ہوا نہ کسی ایک نے دوسرے کے مدار کو توڑا۔

فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

عالی وقار!
تربیت یافتہ قومیں ہنگامی حالات میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتی اور حالات کو سنبھال لیتی ہیں۔ غیر تربیت یافتہ قومیں ایک بھیڑ یا ہجوم کی طرح ہوتی ہیں جن کا معاشرتی ارتقاء رُک جاتا ہے اور وہ زوال کی جانب بڑھتے بڑھتے ، حتّٰی کہ ایک دن فنا ہوجاتی ہیں۔

فطرت میں تو نظم و ضبط پایا جاتا ہے لیکن انسانی معاشرے میں نظم و ضبط کا فقدان دیکھا گیا ہے۔ دراصل انسان صاحبِ اختیار ہستی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اِسے اچھا کام کرنے اور بُرا کام کرنے ،گویا دونوں طرح کا اختیار دیا ہے۔ چنانچہ وہ لوگ جو اچھی طرح سے تربیت یافتہ نہیں ہوتے ، معاشرے کے نظم وضبط کو درہم برہم کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جرائم پیشہ لوگ کہا جاتا ہے۔

ساتھیو!
اگر ہمیں اپنے آپ سے محبت اور معاشرے اور وطن سے پیار ہے اور ہم واقعی پاکستان سے مخلص ہیں اور اپنی قوم کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیے۔ اور اٹھتے بیٹھتے ‘ چلتے پھرتے ہر مقام پر ہر وقت اتحاد اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے افکار و افعال میں نظم و ضبط کے اصول کو کبھی فراموش نہ کریں۔
اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا؀

ملّت کے ساتھ رابطہ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اْمیدِ بہار رکھ
Advertisements