صدر عالی وقار، میرے عزیزو!
السلام علیکم!
آج کی میری تقریر کا عنوان ہے ہم زندہ قوم ہیں۔
عالی وقار!

ہم زندہ قوم ہیں ،
پائندہ قوم ہیں ،
ہم سب کی ہے پہچان

بچپن سے یہ ملی نغمہ سنتا آرہا ہوں۔کبھی کسی ٹی وی پروگرام پر، کبھی کسی سکول پارٹی میں ،کبھی کسی جوشیلے نوجوان کے لبوں کی زینت بنا یہ ملی نغمہ مجھے اپنی طرف کھینچتا ہے اور میں بھی ان سب کے ساتھ ساتھ جوش اور جذبے میں ڈوبا یہی ملی نغمہ پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ یہ ملی نغمہ میں اس وقت سے دہراتا آ رہا ہوں جب مجھے اس کے مطلب کا بھی علم نہیں تھا ، اب جب کہ اس کا مفہوم پوری طرح میری سمجھ میں آ گیا ہے تو پتہ نہیں کیوں اب یہ ملی نغمہ میرے منہ میں اٹک جاتا ہے ، اس کے الفاظ میری زبان پہ آ کر لڑکھرانے لگتے ہیں۔ میں سوچنے لگتا ہوں کیا ہم واقع زندہ قوم ہیں ، کیا زندہ قومیں ایسی ہوتی ہیں؟؟؟

صدر عالی وقار!
یہاں ہر کوئی مسائل سے دوچار ہے، یہاں ہر کوئی ضرورتوں کا مارا ہے ، یہاں ہر کوئی لامتناہی خواہشوں کے پیچھے دوڑتا آبلہ پا ہو چکا ہے ، یہاں ہر کوئی سکون سے محروم ہے ، یہاں ہر شخص پیاسا ہے، یہاں ہر انسان بھوکا ہے۔

ساتھیو!
۲۳ مارچ کو یومِ پاکستان کے حوالے سے پاکستان کے تمام ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن پر خصوصی پروگرام نشر کئے جاتے ہیں اور تحریک آزادی کے معروف کارکنان کو ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں شرکت کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔ صدرِ مملکت کی جانب سے تقریب تقسیم اعزازات کا انعقاد اور تمام صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے زیر اہتمام اعزازات کی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی ہدایت پر صوبائی دارالحکومتوں میں مشاعروں کا انعقاد کیا جائے گا پورے ملک کے یتیم خانوں اور دارلامانوں میں مٹھائیاں تقسیم کی جائیں گی جبکہ قیدیوں کو خصوصی طعام مہیا کی جاتی ہیں۔

عزیز سامعین!!
صوبائی دارالحکومتوں میں تحریک پاکستان سے متعلق تصاویر وغیرہ کی نمائش کی جاتی ہے۔ پورے ملک میں قرات ، تقاریر اور مضمون نویسی کے مقابلوں کا انعقاد اور جیتنے والوں میں انعامات تقسیم کئے جاتے ہیں ،جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں حسب سابق دوسری سالانہ پریڈ کا اہتمام کیا گیا ہے ،جس میں زندہ دلان لاہور بھر شرکت کرتے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد ،  کراچی ، کوئٹہ ،پشاور اور آزاد کشمیر سمیت گلگت و بلتستان میں یومِ پاکستان کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
یہی چند مسرتوں کے لمحات ہیں جب ظاہر ہوتا ہے کہ ہم قوم زندہ ہیں مگر کیا ایسی ہوتی ہیں زندہ قومیں؟

جناب والا!
ہمیں ہمارے بڑے بتا گئے ہیں کہ زندہ قوم کی کیا نشانی ہے۔علامہ اقبال نے کہا تھا :

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں

اس ایک دن کو جوش وخروش سے منا لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ یہ دن تو اس تجدید عہد کا دن ہے کہ ہمیں اپنے وطن کو عظیم سے عظیم تر بنانے کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے۔دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔ مالک میری قوم پر رحم فرما۔ آمین
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements