صدر محترم میرے عزیز دوستو! السلام علیکم!

آج کی میری تقریر کا عنوان ہے محنت کی عظمت آپ سب کی توجہ مطلوب ہے۔

محنت کے معنی ہیں دکھ یا تکلیف اٹھانا اور مشکلات کو برداشت کرنے کے ہیں۔ خدا نے ہر انسان، حیوان، پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے محنت کو لازم قرار دیا ہے۔ زندگی کی ترقی کا دارومدار محنت پر منحصر ہے۔ دنیا کی ترقی کا راز محنت میں ہی پوشیدہ ہے۔
علم وہنر، جاہ وجلال، شان وشوکت، فضل وکمال سب کچھ محنت کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔محنتی لوگ ہی دنیا میں ہر طرح کی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ ایک کسان یا زمیندار کو دیکھئے کہ وہ محنت سے زمین میں ہل چلاتا ہے،کھاد ڈالتا ہے، بیج بوتا ہے، وقت پر پانی دیتا ہے اور آخر اس کی محنت کا پھل اسے مل جاتا ہے۔لاکھوں من غلہ پیدا ہوتا ہے جس سے اس کی زندگی خوشی میں بسر ہوتی ہے۔جو لوگ محنت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل اور رسوا اور ترقی سے محروم رہتے ہیں۔

جناب والا!
اسلام محنت اور محنت کشی کو سراہتے ہوئے محنت کشوں اور مزدوروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ محنت کا مقام اور محنت کرنے کی ترغیب کے حوالے سے ارشادات ربانی ملاحظہ ہوں۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
’’اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا، جس کی اس نے کوشش کی ہو۔’’
( سورۃ النجم)

ایک مقام پر فرمایا گیا :
’ اور دنیا سے اپنا حصہ لینا نہ بھول۔’’
( سورۃ القصص)
نیز فرمایا گیا!
’اور پھر جب نماز (جمعہ) ختم ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور پھر اﷲ کا فضل یعنی رزق تلاش کرنے لگو‘‘(سورۃ الجمعہ)
اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’مردوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا۔‘‘(سورۃ النساء)
’’پس تم اﷲ کی بارگاہ سے رزق طلب کیا کرو اور اسی کی عبادت کیا کرو اور اسی کا شکر بجایا لایا کرو‘‘۔(سورۃ العنکبوت)

ساتھیو!
ایک دن جب نبی پاک ﷺ سے ہاتھ ملایا تو آپ ﷺ نے ہاتھوں کی سختی کی وجہ دریافت فرمائی تو حضرت سعد ؓ نے عرض کیا،
’’اپنے اہل وعیال کے لیے روزی کماتا ہوں‘ اس لیے ہاتھوں کا یہ حال ہوا ہے’’
تو رسول اﷲ ﷺ نے اپنے مبارک لبوں سے حضرت سعد ؓ کے ہاتھوں کو چوم لیا اور فرمایا: ’’یہی وہ ہاتھ ہیں جنہیں جہنم کی آگ کبھی نہیں چھوئے گی‘‘۔ (ابن اثیر)

اسلام نے محنت کی عظمت ہی کو دنیا اور آخرت کی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیا اور سب سے زیادہ محنت کشوں کے حقوق کی اسلام نے پاس داری کی ہے۔ آئیے ہم سب مل کر وطن عزیز کی تعمیر کریں‘ محنت سے جی نہ چرائیں،ایک دوسری کے حقوق کی پاس داری کریں اور پھر سے اسلامی تعلیمات اور اسلامی روایات کو زندہ کریں۔
اس لئے ہمیں چاہئے کہ محنت کر کے ہم اپنا اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کریں اور اپنے مستقبل کو سنواریں۔
آخر میں اس نظم کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

مشقت کی ذلت جنہوں نے ا ٹھائی جہا ں میں ملی ان کو آخر بڑائی کسی نے بغیر ا س کے ہر گز نہ پائی نہ شہر ت نہ عزت نہ فرما نروائی نہا ل اس گلستان میں جتنے بڑھے ہیں ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں

فی امان اللہ آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ

Advertisements