جناب صدر میرے عزیز دوستو! السلام علیکم!
آج کی میری تقریر کا عنوان بہت منفرد اور حساس ہے جو کہ یقیناً ہر مسلمان کے لئے اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی میری لیے رکھتا ہے۔ آج مجھے ناموسِ رسالت پر بات کرنے کا شرف بخشا گیا ہے۔ آپ سب کی سماعتوں کا طالب ہوں۔

عالی وقار!
پیغمبر اسلام کے خلاف تضحیک آمیز جملے استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت/پیشکش، یا انکے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ سٹیٹمنٹ دینا جس سے انکے بارے میں بُرا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو یا انکو نقصان دینے والا تاثر ہو یا انکے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا، ان سب کی سزا عمر قید یا موت اور ساتھ میں جرمانہ بھی ہوگا۔

عقیدۂ ختم نبوت، مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے۔ حضور اکرم ﷺخاتم الانبیاء ہیں اور آپ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، نبوت کا سلسلہ آپ پر آکر ختم ہوگیا ، آپ ﷺکے بعد کوئی بھی شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا تو کذّاب اور جھوٹا سمجھا جائے گا۔ یہ اسلام کا ایک بے غبار اور غیر متنازع متفقہ عقیدہ ہے، اسی وجہ سے پاکستان کی پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ ۱۹۸۴ میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا ،جس کی رُو سے قادیانیوں کو اپنے عقیدے کی تشہیر سے روک دیا گیا۔ دین دشمن قوتوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً ختمِ نبوت کے عقیدے اور توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے سازشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ساتھیو!
ناموسِ رسالت بڑا حساس موضوع ہے اور مسلمانوں کا اجماعی ومسلمہ عقیدہ ہے۔ تاریخ بتاتی ہے دور نبوی ﷺ سے لے کر آج تک کسی بھی دور میں شاتم رسول کو مسلمانوں نے برداشت نہیں کیا۔ کوئی مسلمان کتنا ہی گیا گزرا ہو، عملی اعتبار سے اس کا دامن بالکل خالی ہو، گناہوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہو، شراب کے نشے میں دھت رہتا ہو اور زنا کا عادی ہو، الغرض زمانے بھر کی برائیاں اس میں پائی جاتی ہوں مگر اس کے دل میں عشقِ مصطفی ﷺ کی چنگاری ہر وقت بیدار رہتی ہے اور وہ خواجہ یثرب ﷺ کی عزت و ناموس پر مر مٹنے کو سعادت دارین سمجھتا ہے۔ ہر دور میں آقا نامدار ﷺکی ناموس پر حملہ کرنے کی ناکام کوششیں گستاخان رسول کرتے آئے ہیں۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہی کئی ایک بدبخت اس جرم کا ارتکاب کرکے اپنے انجام بدکو پہنچے۔

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

ناموس سے مراد ’’ آبرو، عزت، شہرت، عظمت اور شان‘‘ہے۔ ناموسِ رسالت سے مراد ’’رسول کی آبرو، عزت، شہرت، عظمت اور شان‘‘ ہے اور تحفظِ ناموسِ رسالت سے مراد ہے کہ کسی بھی رسول کی آبرو، شہرت ، عزت، عظمت یا شان کا لحاظ کرنا۔ ہر قسم کی عیب جوئی اور ایسے کلام سے پرہیز کرنا جس میں بے ادبی ہو۔

ان تمام امور کا لحاظ رکھنا فرض ہے اور مخالفت کرنا کفر ہے۔
مالک ہم سب کو آقاﷺ کی ناموس کے محافظ بنائے رکھے
آمین ثم آمین
شکریہ

Advertisements