صدرِ گرامی ، حاضرین مکرم!
ہمارے نبی پاکﷺ نے فرمایا ہے کہ
"علم حاصل کرنا ہر مرد و زن کے لئے ضروری ہے۔۔” آپ کے ارشاد سے علم کی اہمیت و افضلی ظاہر ہوتی ہے کیونکہ علم کے بغیر انسان خود کو کامل نہیں کہلوا سکتا۔ علم سے ہی انسان آدمیت کی صحیح ادراک پیدا کر سکتا ہے۔

جنابِ اعلیٰ !
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ اسے معرض وجود میں آئے ۷۰ سے زیادہ برس گزر گئے ہیں لیکن اپنی منزل کو پانے کے لئے ہم نے اتنی مسافت نہ کی جتنی درکار تھی۔ جدوجہد سے ہی پاکستان اپنی منازل کو طے کرے گا مگر جب علم نہ ہوگا تو اس جدوجہد کا کیا کیا جائے۔علم میں شفافیت کا ہونا لازم جُز ہے مگر چند برسوں سے ملک بھر میں تعلیمی بحران پیدا ہوا ہے۔ نقل و منقول سے بچے اپنے امتحانات پاس کرکے اگلی جماعتوں میں منتقل ہو رہے ہیں جس سے وہ کل کو ملک کے کسی اہم عہدوں پر سفارش یا رشوت سے فائز تو ہو جائیں گے مگر ان میں وہ اہلیت وہ قابلیت نہ ہوگی۔

عزیز سامعین!!
ہمیں نقل کے ناسور کے خاتمے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی بھرپور تائید کرنا چاہئے کیونکہ نقل اور کاپی کلچر کے سہارے طلبہ و طالبات ذہنی صلاحتیوں سے محروم ہو کر کاپی کلچر کے سہارے صرف ڈگریوں کی حصول تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں اور زندگی کے یا عملی مقابلے کے امتحانات میں ناکام ہوکر رہ جاتے ہیں۔

ہم وطنو!
جو نوجوان کاپی پر منحصر کر رہے ہیں وہ اصل میں خود کو آگے بڑھنے کے مقابلے سے دور کر رہے ہیں، قابلیت کی پوری دنیا میں اہمیت ہے۔ یہ وقت کے حاکم و حکومت کا کام ہےکہ وہ کاپی کلچر کا خاتمہ کر کے نوجوانون کو بہتر مستقبل فراہم کریں اور آگے بڑھنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کریں۔ امتحانات میں کاپی کلچر کی روک تھام کے لئے وجیلنس اور مانیٹرنگ سسٹم کو مزید تیز کیا جائے۔

جب تک ہم اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ نہیں پھینکیں گے اس وقت تک بچے اعلیٰ سطح کی ڈگریوں اور بہترین عہدوں پر رسائی سے محروم رہیں گے۔

صدرِ محفل!
بڑا المیہ یہ ہے کہ نجی تعلیم کو فروغ دے کر سرکاری تعلیم کو بٹھا دیا گیا ہے۔ طبقاتی تعلیمی نظام کی وجہ سے نچلے طبقے کے بچے تعلیم جیسے زیور سے محروم ہیں۔ دوسری طرف وزرا کے بچے بیرون ملک میں پڑھ رہیں ہے۔ اگر پاکستان تعلیمی نظام اتنا اچھا ہے تو الیٹ کلاس اور وزرا اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں کیوں نہیں داخل کرواتے؟

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے وزیرِ تعلیم کو کاپی کلچر کا سبب یہ ناقص تعلیمی نظام نظر نہیں آتا۔ اصل سبب ناقص تعلیمی نظام ہے، کاپی تو صرف اس کا نتیجہ ہے۔ کاپی کا ذمیدار ۱۴ برس کے طلبہ کو ٹھرایا جائے یا پھر یہ مواد فروغ کرنے اور بنانے والوں کو؟

انتظامیہ پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات خوش آئند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح پولیس انتظامیہ کا تعاون جاری رہا تو جلد ہی اس مافیا کا خاتمہ ہوگا اور کاپی کلچر ہمیشہ کے لئے دفن ہوجائے گا۔
جب بچے پڑھ کر اپنی عقل سے کام لے کر آگے بڑھیں گے اور میدان ماریں گے۔
امید ہے ایسا جلد ہی ہوگا۔
اللہ ہم سب کو ہدایت کا راستہ دیکھائے۔
آمین۔
شکریہ۔

Advertisements