یومِ دفاع پر ایک تقریر

کس کی ہمت ہے ہماری  پرواز میں  لائے  کمی
ہم پرواز سے نہیں حوصلوں سے اُڑا کرتے ہیں

قرطاس ابیض پر میرے شہداء کے لہو کے چھینٹے بالکل تروتازہ سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ جب دشمن ماضی کو بھول کر دوبارہ اپنے مکروہ ارادے زندہ کرے گا تو اس لہو کا پاس رکھنے کو یہ بیٹے پھر اٹھیں گے۔ یہی مٹی وہ سپوت پیدا کرے گی جو دشمن کے دانت کھٹے کردیں گے۔

میرے عزیزو!
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یومِ دفاع ہمیں ہر سال شہداء کی یاد دلاتا ہے۔
۶ ستمبر کو پہلے سے ترتیب شدہ حکمتِ عملی کے مطابق بھارتی فوج نے لاہور کے قریب روڈ کاٹنے کے مقصد سے پنجاب میں بین الاقوامی سرحد عبور کی۔ یہ حملہ پاکستانی کمانڈروں کے لئے حیرت کا باعث بنا۔ مگر سرفروشوں نے سر پر کفن باندھ لیا تھا۔ وہ موت کو گلے لگانے کے لئے بھارتی فوج پر ٹوٹ پڑے۔ یہ وہ زبردست دفاع تھا جس میں غیر معمولی قوتوں سے پاکستان کی مدد فرمائی گئی۔

ہمارے بڑوں نے بتایا جب ملک جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا میری ماں بہن بھی جنگ میں مردوں کےشانہ بشانہ موجود تھیں۔ میری دھرتی کو ان بیٹوں نے لہو دیا جس سے یہ آج بھی سراب ہے۔ان قربانیوں کو فراموش کبھی نہیں کیا جاسکتا۔

ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے
توں لبھدی پھریں ادھار کڑے
اے شیر بہادر غازی نیں
اینا دشمناں کولوں کی ڈرنا
اے موت کولوں ڈردے نیئں

ہر سال ستمبر کی ۶ تاریخ, ۱۹۶۵ کے اس دفاع کے یادگار کے طور پر ہمارے سامنے آتی ہے۔ ان نوجوانوں نے بھی زندگی میں خواب دیکھے تھے لیکن کتنے ہی جوانوں نے اپنی اولادوں کو نظرانداز کرکے شہادت کا جام نوش کرلیا۔

صدرِ محترم!!!
سارا عالم جانتا ہے ہندو ایک مکار قوم ہے اور شیطانی منصوبہ بندی میں بہت تیز ہے۔ پاکستان کا دفاع ہمیشہ سے ناقابلِ تسخیر رہا ہے۔ ہماری قوم اور ہماری افواج ایک ساتھ ایک سوچ و مقصد کے ساتھ پاکستان کی سالمیت پر کھڑی ہیں۔

جب کوئی فرعون پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے لئے غیر متوقع سا خطرہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہاں بھی ایک فرعون نما مودی، خدائی کے جنون میں ڈوبا ہوا ہے مگر اسے معلوم نہیں کہ کب اسی کے اقتدار میں سے ایک بچہ موسی کی طرح اس کی خدائی کے خاتمے کی وجہ بنے گا۔ پاکستان کو اب بھی بہت سے سانپ بچھوؤں سے خطرہ لاحق ہے مگر ہمارے محافظ اس خدشے کو ٹال دیتے ہیں۔

شہیدانِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں شکر کرتے تھے جہاں صبر مشکل تھا

سامعین!
یہ حوصلہ یہ پُراسرار بندے جن کو موت زندگی کی نسبتاً زیادہ عزیز ہے ان سے کوئی کیا مقابلہ کرے گا جن کا زندہ رہنا غازی اور جن کی کا مرنا شہادت ہو۔

اے دشمنو!
سن لو! یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس کے محافظ اس کے خادم ہیں۔ اگر تم نے اس کی طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھنے کی خواہش بھی کی تو ہم تمہاری آنکھیں پپوٹوں سے نکال باہر کریں گے۔۔۔جو شعلے میری دھرتی کی جانب اٹھیں گے ہم لہو سے ان کو بجھا دیں گے۔

خون دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

Advertisements