>

محترم امیر مجلس و معزز حاضرین کرام!
آج میری تقریر کا عنوان پانی کی اہمیت ہے۔
جناب من!
کہتے ہیں کہ حالتِ امن میں حالتِ جنگ کی تیاری کرنی چاہیے تاکہ جب مشکل وقت آئے تو زیادہ پریشانی نہ ہو اور اس مصیبت کا بھر پور طریقے سے مقابلہ کیا جاسکے۔ آج دنیا ترقی کی نئی سے نئی منازل طے کر رہی ہے۔ ایسی ایسی ایجادات سامنے آرہی ہیں کہ انسان ایک لمحے کے لیے تو حیران ہی رہ جاتا ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے۔ سائنسی ترقی نے انسانی جسم کو تکالیف اور زحمت سے بچانے کے بھی بہت سے سامان پیدا کردیے ہیں۔

سامعین!
ہمارے معاشرے میں رجحان ہے کہ جب تک کوئی مصیبت یا مسئلہ گلے نہ پڑ جائے، ہم اس کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔ پانی کے حوالے سے بھی ہمارا یہی مزاج ہے۔

اللہ رب العزت نے انسانوں کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں، خود انسان سراپا نعمت ہے، ان نعمتوں کا شمار بھی ناممکن ہے۔ مگر ان نعمتوں میں سے بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جن کو عظیم نعمت کہا جاسکتا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان میں سے بہت سی نعمتوں کو، بہت سے مواقع پر، ان کی اہمیت جتلانے کے لیے بطور احسان یاد دلایا ہے، انہی میں سے ایک عظیم نعمت ’پانی‘ بھی ہے۔ ہم بحیثیت قوم پانی کو وہ اہمیت دیتے ہی نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔

جناب صدر!
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے زمین کے سوتوں میں پرو یا، پھر وہ اس پانی سے ایسی کھیتیاں وجود میں لاتا ہے جن کے رنگ مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں سوکھ جاتی ہیں تو تم انہیں دیکھتے ہو کہ پیلی پڑ گئی ہیں، پھر وہ انہیں چُورا چُورا کر دیتا ہے۔ یقیناً ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ ((سورۃ الزمر، آیت 21))

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانی سے وابستہ ان چار نظاموں کا ذکر فرمایا جن کے ہونے سے زندگی موجود ہے اور نہ ہونے سے زندگی مفقود۔ یہ نظام درج ذیل ہیں۔

  • بارش کا پانی۔
  • زیرِ زمین پانی کے ذخائر کا نظام۔
  • زراعت کا نظام۔
  • زراعت کے نتیجے میں انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا نظام۔

انسانی جسم کا دوتہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے اور پانی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا پانی کو ضائع مت کریں۔ اس کی حفاظت کریں۔ یہ آپ کی حفاظت کرے۔ حدیث پاک ہے وضو کرتے وقت کم سے کم پانی استعمال کریں، خواہ آپ ندی کنارے کیوں نہ بیٹھے ہوں! یاد رکھیں خالق نے ہر چیز پانی سے پیدا کی ہے، پانی حیات کا دوسرا نام ہے۔

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہر باں ہو گا عرش بریں پر

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ

Close Menu