السلام علیکم!! آج میری تقریر کا عنوان ہے یوم آزادی۔

محترم صدر و معزز حاضرین کرام!!
۱۴ اگست پاکستان کا یومِ آزادی ہے۔ پوری قوم آج خوشی سے معمور نظر آرہی ہے اور واقعی آج کا دن ہماری قومی زندگی کا سب سے زیادہ خوشی کا دن ہے کہ آج کے دن ہم نے آزادی جیسی بے پایاں دولت حاصل کی۔ تقریر شروع کرنے سے پہلے میں آپ سب کو آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

جناب والا !
۱۴ اگست یعنی پاکستان کی یوم آزادی کے دن بچہ بچہ خوشی سے شاد نظر آرہا ہے۔ شہر شہر، گاؤں گاؤں ، گلی گلی میں مسرت و شادمانی کے نغمے بکھرے ہوئے ہیں۔جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔تقریبات منائی جا رہیں ہیں۔ تقریریں ہو رہی ہیں۔ پاکستان زندآباد کے نعروں سے فضا گونج رہی ہے۔ ہر بچہ بڑا مرد عورت ہر زی روح مسرور و شاداں نظر آرہا ہے۔ کس قدر خوشی کا موقع ہے۔ ہر طرف جوش و جذبہ نظر آرہا ہے۔دلوں میں ولولے پیدا ہو رہے ہیں۔آزادی کی کہانی دوہرائی جا رہی ہے۔ یہ پھل ہے لاکھوں قربانیوں کا، یہ صلہ ہے دن رات کی آنتھک جدوجہد کا۔ یہ انعام ہے قدرت کا کہ ہم نے اس کے حصول کے لئے اتنا خون بہایا کہ زمین کو رنگین کر دیا۔

جناب والا!!
میں اپنے ہم وطنوں کو اس خوشی کے موقعے پر کچھ پیچھے غموں کی بستی میں لے جانا چاہتا ہوں۔ جس کا نام ہندوستان تھا۔ آج میں اپنے شہیدوں کی یاد تازہ کرنا چاہتا ہوں۔ آج میں چاہتا ہوں کہ گزرے ہوئے ایام کی تلخ یادوں کو اپنے دلوں میں کچھ دیر کے لئے ہی سہی لیکن بسایا ضرور جائے۔ یہ یادیں ہمیں نیا حوصلہ دیتی ہیں۔ ہمارے اندر نئے ولولے پیدا کرتی ہیں اور ہمیں نئے جہانوں کی تلاش کے لیے جدوجہد کا سبق دیتی ہے۔

میرے ہم وطنو!
ہم ایک زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ ہم کس قدر دلیر قوم اور جفا کش لوگ ہیں۔ زندہ قوموں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے قومی دنوں کو پورے جوش جذبے آن بان شان اور تزک و احتشام کے ساتھ مناتی ہیں۔ ہم آج آزادی کی خوشی منا رہے ہیں۔ یہ آزادی ہمیں یونہی طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کر دی گئی تھی۔ اس کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دی ہیں۔آج ہم آزادی کا جشن منا رہے ہیں تو یہ ہر جگہ پرچم ہی پرچم ہیں جو ہماری شان و شوکت کی علامت ہے۔کیا حسین منظر ہے۔ آج کے دن میرا دل خوشی سے پھٹا جارہا ہے۔

اے دشمنو!
سن لو! یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس کے محافظ اس کے خادم ہیں اگر تم نے اس کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو تمہاری آنکھیں بھی پپوٹوں سے نکال باہر کریں گے۔تم اصلی روپ دیکھ چکے ہو اور اگر کوئی کسر رہ گئی ہو تو ہم وہ بھی پوری کرنے کی ہمت رکھتے ہیں لیکن تم میں اتنی ہمت کہاں کہ ہمیں للکار سکو۔کبھی گیدڑنے بھی شیر کو للکارا ہے۔

دوستو !
آؤ میرے ساتھ ہم آواز نعرہ بلند کرو۔
پاکستان زندہ باد۔
شکریہ

Advertisements