صدر ذی وقار سامعین کرام! السلام علیکم! آج میری تقریر کا عنوان گلوبل وارمنگ ہے۔ جناب والا! انسان کو اشرف المخلوقات اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ اسے قدرت نے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ہے کہ انسان ہمہ وقت اپنی زندگی کو بنانے اور سنوارنے کی تگ و ود میں مصروف رہتا ہے۔ پر ایسی تگ و دو میں، جہاں انسانی ایجادات انسان کی زندگی کو آسان و سہل کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ وہاں زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے چکر میں انسان نے اپنے لئے کئی مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔

دور حاضر میں دنیائے انسانیت کو دو اہم مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس میں ایک ماحول میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور دوسرے کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ موٹر گاڑیوں کی تعداد میں کارخانوں، فیکٹریوں کی تعداد میں کروڑوں کا اضافہ ہوا، بلند عمارتوں کی تعداد بھی لاکھوں تک بڑھ گئی اور یہ بڑھوتری اب بھی تیزی سے جاری ہے تو دوسری جانب اس ترقی نے ہزاروں سال کے متوازن اور مستحکم ماحول کو عدم توازن کا شکار کردیا ہے۔

جناب صدر! زمین کے ماحول کے بنیادی حصے جس میں اس کی ساخت، فضا، پانی کے ذخائر اور زمین کو رنگینی اور غذائیت عطا کرنے والے نباتات اور دیگر حیاتیات شامل ہیں ایک دوسرے سے ایک ماحولیاتی توازن ایکوسسٹم کی زنجیروں سے جڑے ہیں۔ اس زنجیر کی ایک کڑی بھی متاثر ہونے سے ہر چیز اپنے توازن سے ہٹ جاتی ہے۔ اور نیا توازن بننے میں نہ صرف وقت لگتا ہے بلکہ وہ نئے مطالبات بھی رکھتا ہے۔ گاڑیوں کے گندے تیل گٹروں میں پھینکنے پر سخت جرمانہ ہوتا ہے۔ سگریٹ یا چھوٹا موٹا کچرا سڑک پر پھینکنے پر کم از کم برطانیہ میں تیس پونڈ جرمانہ ہوتا ہے، دریں اثنا عدالتوں میں پیشیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پبلک مقامات ، دفاتر، پارکوں اور گھر کے اندر خاندان کے ساتھ سگریٹ نوشی پر پابندی ہے۔

اپنی گاڑی میں بچوں کے ساتھ سگریٹ نوشی ایک جرم تصور کیا جاتا ہے، اور یہ مغربی معاشرے کے اخلاقیات کا حصہ بن گیا ہے، کیونکہ ساتھ بیٹھ کر سگریٹ کا اتنا ہی اثر ہوتا ہے جتنا پینے والے پر۔ ساتھیو! ماحولیات کا مسئلہ مغربی حکومتوں کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں نہ تو اس پر قانون سازی ہوئی ہے اور نہ ارباب بست وکشاد نے اس کو کوئی مسئلہ سمجھا ہے۔ بلکہ ہمارے ماحول کو تباہ کرنے میں حکمران طبقہ کا ہاتھ ہے جن کی ذمہ داری بنتی تھی کہ قدرتی ماحول کو بچایا جائے مگر انہوں نے تسلی بخش اقدامات نہیں کیے۔

جناب ولا! گلوبل وارمنگ سے ہونے والے ان تمام نقصانات کی وجہ سے پاکستان میں خوراک اور توانائی کی کمی کا خطرہ درپیش ہے۔ آب و ہوا میں ہونے والی اس تبدیلی سے خشک سالی سیلاب جیسی قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جن کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن ان سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں۔ جن کا وقت سے پہلے اپنانا بہت ضروری ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے امان میں رکھے۔۔۔آمین آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ.