صدر محترم معزز سامعین کرام!
میں آج جس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کررہا ہوں یہ موضوع اس ملک یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے نہ صرف اہم بلکہ سب سے بڑا مسئلہ بھی ہے۔میری تقریر کا عنوان ہے* بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ* یعنی کہ حقوقِ تعلیمِ نسواں جسے عام زبان میں خواتین کی تعلیم کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔

جنابِ صدر!
ساڑھے چودہ سو سال قبل دور جہالت میں نبی کریم نے بچیوں کے قتل کا رواج ختم کر دیا تھا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم لوگوں کا وجود اس دنیا میں نہیں رہتا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں ہمارے والدین نے اسلامی تعلیمات سے روشناس کروایا اور ہم ایک عظیم گناہ سے محفوظ ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو کہ اسلامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر بچیوں کا قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

چنانچہ عصرِ حاضر کے جدید تعلیم یافتہ دور میں بچیوں کا قتل، اسقاط حمل، فیملی پلاننگ، جہیز اور طلاق جیسے رواج کو عقیدہ بنا لیا گیا ہے لیکن اس لعنت پر غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔

سامعین کرام آپ سب جانتے ہیں اس معاشرے میں عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ایک لازم جز بن کر سامنے آرہا ہے۔ آج اس ملک کو قائم ہوئے لگ بھگ تین تہائی صدی گزر چکی ہے لیکن افسوس ہے کہ ہم نے زندگی کے اس شعبے میں خاطرخواہ ترقی نہ حاصل کی۔

میرے عزیز ساتھیو!
ہمیں اپنے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے مکمل آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔ اسلام نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ حضور پاک ﷺ نے اس وقت اس ارشاد پر اتنا زور دیا کہ خواہ جو بھی ہو تعلیم کو حاصل کرنا لازم ہے۔

ایک عورت کا معاشرہ بنانے میں اہم کردار ہے۔صنفِ نازک کی گود ماں کے روپ میں بچے کی اول درس گاہ ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار نہ رہے تو اس سے اولاد بھی مہذب اور شائستہ نہیں رہے گی۔


اگر ہم عورت کو تعلیم سے محروم رکھیں گے تو اس کا مطلب ہے ہم اپنی نسلوں کو شعور اور علم حاصل کرنے کے لئے مشکلات میں گھیر رہے ہیں۔تعلیم کو مرد و عورت کا زیور کہا گیا ہے جس کا مطلب ہے انسان اس سے آراستہ و مکمل نظر آتا ہے۔

حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں سامعین!
مرد و زن گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں جس میں دونوں کا اہم کردار ہے۔ اگر اس میں سے ایک بھی کام چھوڑ دے تو گاڑی سالم و صحیح اپنی منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ اسی لئے میں کہتا ہوں ان دونوں پہیوں کو مضبوط ہونا ضروری ہے۔

یہ بات حوصلہ افزاء ہے مگر ہمارے ملک میں کچھ کچے ذہنوں کے لوگ ہیں جو عورت کی تعلیم کو معیوب قرار دیتے ہیں۔ ان تعلیم و علم دشمنوں کی یہی سوچ ہے کہ عورت پڑھ لکھ کر مغربی لبادہ اوڑھ لے گی۔ یہ فقط ان کی ذہنی غلامی کا ثبوت ہے۔

عورت کو یکساں تعلیم دے کر اسے اس کے اصل مقام پر پہنچانے کے مابین جو رکاوٹیں درپیش ہیں، ان کو ہٹانے کے لیے ایک مہم ، کسی قانون کی ضرورت ہے۔ایسا کرنے کے بعد ہی ہماری قوم کے نوجوانوں کے اخلاق اچھے ہوں گے کیونکہ اخلاق اولاد کو ماں کی گود سے ملتے ہیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements