باپ ہی سرمایۂ اولاد ہے
باپ ہی اجداد کی بنیاد ہے
گود ماں کی ،درسگاہ اولین
باپ ہے ،روحِ جمال دلنشین

محترم جناب امیر محفل و حاضرین باتمکین!
آج کے جلسے سے میرا خطاب باپ کے یک لفظ پر ہے۔آپ کی سماعتوں کا طالب ہوں۔

زندگی ہر لمحہ بدلتی ہے۔ مگر ہر پل بدلتی اس دنیا میں کوئی چیز جامد و مستقل اور ناقابل تبدیل ہے تو وہ ہے والدین کی محبت۔ دھیرے دھیرے گزرتے وقتوں کے ساتھ ہر رشتے کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ لیکن والدین کا ہی وہ اٹوٹ رشتہ ہے جو ہر وقت دنیا کے نشیب و فراز سے گزر کر بھی ویسا ہی رہتا ہے بلکہ اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جا تا ہے۔

ماں تو ماں ہی ہوتی ہے لفظ ماں ہی اس کی شخصیت کا مکمل تعارف ہے ۔ لیکن باپ سے بھی اولاد کا رشتہ بہت انوکھا سا ہے۔ شجر سایہ دار کا سا احساس ،گھنی چھائوں اولاد کی تمام ضروریات کو پلک جھپکتے پوری کر دینا ،ہر خواہش کی تکمیل کو اپنا اولین فرض جان کر بھی صلے سے بے پرواہ رہنا۔ بظاہر سخت لیکن اندر سے موم ،حساس اور شفیق اولاد کی ہر تکلیف پر بے کل ہوجانا۔

دنیا میں ماں کے بعد سب سے اہم اور اولین رشتہ باپ کا ہی ہوتا ہے۔ والد ایک مضبوط سہارا ہے۔ اولاد کے لئے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ باپ کو خوش رکھنے والا اللہ تعالیٰ کو خوش رکھنے والوں میں شامل ہے والد محبت و چاہت ،صبرو خلوص، ایثارو بردباری کا پیکر ہے۔

جناب من!
شاعر نے کیا خؤب کہا؀

بابا ہے تو بچوں کے سارے سپنے ہیں
بابا ہے تو بازار کے سب کھلونے اپنے ہیں

باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔کسی شاعر نے اپنے الفاظ میں قصہ بند کردیا ہے :

مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا 
میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں

دنیا کے زیادہ تر باپ بظاہر کرخت، با رعب اور غصے والے لگتے ہیں جب کہ ایسا کچھ نہیں۔ انکے غصے کی ہی بدولت اہل خانہ ایک چھت تلے با حفاظت مقیم ہوتے ہیں۔ باپ کی ڈانٹ تو اولاد کے لئے ایسی ہے جیسے انسانوں کے لئے ہوا۔ باپ کی شفقت اور دعائوں کی حدت خاموش سمندر کی مانند ہے جس کی لہروں میں شدت پنہاں ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ربّْ العالمین نے والدین کے حقوق کو اپنے حقوق کے ساتھ بیان فرمایا ہے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں والدین کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جن کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اجازت چاہوں گا شکریہ۔

Advertisements