صدر ذیشان و حاضرینِ محفل!
السلام علیکم!
آج مجھے انتہائی اہم موضوع پر بولنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے اور یقین جانیے کہ جب مجھے تقریر کے لیے یہ موضوع دیا گیا تو میرے خون کی گردش پہلے سے بڑھ گئی۔ اس لیے نہیں کہ یہ کوئی مشکل موضوع ہے بلکہ اس لیے کہ اس موضوع میں میرے دلی جذبات تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں آپ کے سامنے تقریر نہیں اپنے جذبات کی عکاسی کرنے آیا ہوں۔

سامعینِ کرام!!
قومی ہمدردی تین لفظوں کا مجموعہ ہے ”قومی” ، ہم اور ”درد”۔ اس کے معنی ہیں دو یا زائد لوگوں کا دکھ درد میں شریک ہونا یعنی اگر ایک سے زیادہ اشخاص کسی مصیبت یا بلا میں مبتلا ہیں تو دوسروں کا اس بلا میں ہاتھ بٹانا۔

ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مسجد نبوی ؐمیں اعتکاف کررہے تھے کہ ایک شخص پریشان حال اور مغموم حضرت کے پاس آکر بیٹھ گیا۔
آپ نے اس کی پریشانیوں کا سبب معلوم کیا۔ اس نے کہا : ”مجھ پر فلاں آدمی کا قرض ہے اور میں وہ قرضہ ادا کرنے کے قابل نہیں۔”
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ”تو کیا میں اس قرض خواہ سے بات کروں؟” اس نے عرض کیا : ”ضرور کیجئے!!”

آپ نے جوتیاں پہنیں اور مسجد سے باہر نکل گئے۔وہ شخص کہنے لگا : ”آپ تو اعتکاف میں ہیں۔ کیا آپ بھول گئے؟”
آپ نے فرمایا : ”نہیں، بھولا نہیں البتہ میں نے اس روضۂ پاک والے آقاﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کے لئے قدم اٹھائے اور اس میں کوشش کرے تو اس کی یہ کوشش ۱۰ سال کے اعتکاف سے بہتر اور افضل ہے۔”

جناب والا!
کتنے ایسے مخلص ہیں جو خاموش انداز میں غربا اور مساکین کا تعاون کرتے ہیں۔ ان کی مدد اور تعاون سے گاؤں اور علاقے میں بہت سے گھروں میں روشنی ہوتی ہے۔ انہی کی مدد سے ان گھروں کا چولہا جلتا ہے اور بے سہاروں کو سہارا ملتا ہے۔ کتنی بیواؤں اور یتیموں کو ان سے کھانا میسر ہوتا ہے اور کتنے محتاج بیمار ہوتے ہیں جن کی دوا علاج کا ان کے ذریعے انتظام ہوتا ہے۔ ان کے انتقال کے بعد عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے سخی اور فیاض تھے اور کس قدر ان کا سینہ خدمت خلق سے معمور تھا۔ اپنوں سے زیادہ یہ لوگ ان کے لئے آنسو بہاتے ہیں کہ اب ان کا سہارا ختم ہوگیا۔ ان کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں اور اللہ کے حضور میں ان کے لئے دعائے مغفرت کی جاتی ہے۔

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’ ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہے ،اس لئے اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اُس شخص سے ہے جو اس کے عیال یعنی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو۔‘‘

ہم اپنے دل میں وسعت پیدا کریں ‘دشمن ہو یا دوست ‘مسلم ہو یا غیر مسلم اگر کوئی کسی بھی مشکل سے گزر رہا ہو اور ہم اس کا کچھ تعاون کرسکتے ہیں تو ضرور اس کی مدد کریں اور کسی سے انتقام لینے کے بجائے دست تعاون دراز کرنے کا مزاج بنائیں۔ آخرت کے ساتھ دنیا میں بھی اس کے اثرات و برکات کا ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکتے ہیں۔
اللہ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرکے ملک و قوم انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements