میری پیاری ماں اور بہنوں معزز سامعین کرام اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

علامہ اقبال کا یہ شعر مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امید کی ایسی کرن کی مانند ہے جو پزمردہ اور ناامیدی میں ڈوبے قلوب و اذہان کو حیات نو کا پیغام دیتی ہے۔ حالات چاہے کتنے ہی دگرگوں اوراعصاب شکن کیوں نہ ہوں مسلسل اور درست سمت میں کی گئی جدوجہد سے تبدیل ہو جاتے ہے بشرطیکہ صبراور استقامت اور عمل پیہم کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ پیغام قرآن کا بھی ہے کہ ” لا تقنطوا من رحمۃ اللہ”۔کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو۔

دنیا بتاتی ہے کہ خدا کی ذات پر مضبوط عقیدے اور سعی مسلسل نے قوموں کو بڑے بڑے فرعونوں، غروروں اور شداددوں سے نجات سے ہمکنار کیا ہے۔

میری پیاری ماں اور بہنوں :ذرا بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے والے معاشرے کا تصور کیجیے اور کس طرح موسم خزاں فتنہ و فساد اور کینہ و عناد کا موسم گلزار امن و آشتی اور محبت و اخوت میں بدل گیا۔
معزز سامعین کرام! مایوس آدمی مٹی کے اس ڈھیر کی طرح ہوتا ہے جس کے ذرات کو ہلکی سی آندھی اڑا کر فضا میں منتشر کر دیتی ہے۔

ذرا تاریخ پر نظر ڈالیں، اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے 313 جانثار صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ مایوسی اور ناامیدی کا لبادہ اوڑھ لیتے تو کس طرح اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر کو شکست سے دوچار کرتے؟ علامہ اقبال اسی وقت کو اسی جذبے حریت اور امید ورجا کی دولت سے مالامال کرتے ہیں۔ یہی دولت قوموں کے بکھرے ہوئے شیرازے کو جوڑنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

افسوس صد افسوس کہ آج یہی دولت اس ملت کے لئے کسی خزانے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ علامہ اقبال نے اسی گم گشتہ دولت کے کھو جانے کا نوحہ کچھ اس طرح کیا ہے۔

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

میری پیاری ماؤں اور بہنوں: ہمارے ملک ہندوستان میں اس وقت مٹھی بھر فرقہ پرست جماعت و تنظیمیں مذہب کی بنیاد پر عوام کے درمیان نفرت کی دیواریں بڑی کر رہی ہیں۔ کبھی تبدیلی مذہب، گھر واپسی، لو جہاد، طلاق ثلاثہ (سی اے اے) ( این پی آر ) (این آر سی )کے بہانوں سے مسلمانوں اور دین اسلام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میری پیاری ماؤں اور بہنوں: ان سب حالات کو کون بدلے گا؟ کوئی نہیں صرف ہم اور آپ بدلیں گے۔ ان حالات کا پاسہ پلٹیں گے۔ علامہ اقبالؔ نے اسی زمین کو کشتی ویراں کہا اور ہماری غیرت وحمیت اور سعی کو نمی سے تعبیر کیا۔ اٹھیے ایک عظیم الشان انقلاب کے نقیب بنکر الٹ دیجیے اس فرسودہ نظام کی بساط کو بہا دیجئیے۔ اپنے جسم کا سارا پسینہ و خون پھر پھوٹے گا اس کشت ویراں سے، ایک سہانا منظر اپنی آغوش ایک انقلاب لیے ہوئے جو بہا لے جائے گا ساری بے انصافیوں اور ظلمتوں اور نفرتوں کو۔ اس انقلاب کا یہی وقت ہے جیسا کہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی ریت ذرا ایڈیاں رگڑے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گاہ

میری پیاری ماؤں اور بہنوں: اپنے اندر انقلاب پیدا کرو! اپنی تقدیرکو سنوار لو، قوموں کی تقدیر خود بنائی جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : "انّ اللّہ لا یغیّر ما بقوم حتّی یغیّروا ما بانفسکم” یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔

شاعر کہتا ہے؀

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا

ہم بہت کچھ کھو چکے ہیں لیکن ہمارے پاس سب سے بڑی متاع اسلام موجود ہے۔ ابھی ہمارے سینوں میں ایمان و یقین کی مشعل روشن ہے۔ جو لوگ اسلام پر مرنا اور جینا چاہتے ہیں، کفر کا سیلاب ان کے دلوں سے عشق رسول کی چنگاری نہیں بجھا سکتا۔ "الحقُّ یعلُوا ولا یعلیٰ” یعنی حق ہمیشہ غالب و سر بلند رہتا ہے۔ اس کو کوئی چیز مغلوب نہیں کر سکتی۔
آخر میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ہم سب کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا فرمائے۔ فلاح و کامیابی سے وابستہ کرے اور ہم سب کو ایمان پر مرنے والا بنائے۔
وما علینا الا البلاغ