صدر گرامی قدر و حاضرین مکرم!
آج کی میری تقریر کا عنوان اچھے یا اخلاق حسنہ کے ہیں۔

ہر طرح کی تعریف و توصیف ، کبریائی و بڑائی اور بزرگی و برتری اس اللہ وحدہ لا شریک، خالق کائنات، مالک ارض و سماء کے لیے ہے جوہم سب کا خالق و مالک اور مربی و پالنہار ہے، جس نے ہم تمام بنی نوع انسان کو دنیا کی تمام مخلوقات میں اشرف و معزز بنایا اور اشرف المخلوقات کے لقب سے سرفراز فرمایا ، اور اپنی ہر قسم کی نعمتوں سے مالا مال کیا ، نیز ہمیں اس دار فانی کے اندر اچھی اور بہترین زندگی گذارنے کا طریقہ اور گن سکھلایا۔

عالی وقار!
اخلاق ’’خلق‘‘ کی جمع ہے، جس کے معنیٰ خصلت، عادت اور طبیعت کے ہیں۔ اصطلاح میں اخلاق سے مراد وہ خصائل و عادات ہیں جو انسان سے روز مرّہ اور مسلسل سرزد ہوتے رہتے ہیں اور یہی عادات و خصائل رفتہ رفتہ انسانی طبیعت کا جزو بن کر رہ جاتے ہیں جسے انسان دوسرے کے لیے تمثیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اگر یہ عادات اچھی ہوں تو ’’اخلاق حسنہ‘‘ اور اگر بُری ہوں تو ’’اخلاق سیٔہ‘‘ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

عزیز سامعین!
خوش اخلاقی سے مراد ہے کہ بات کریں تو ہمارے لہجے میں نرمی ہو، چہرے پہ مسکراہٹ سجی رہے۔ دوسروں کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آئیں۔ کسی کی نفرت کا جواب بھی محبت سے دیں۔

صدر عالی وقار!
ہمارا دین اسلام ایک مکمل دین ہے جس سے ہمیں ہر طرح کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عمدہ نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو مسلمانوں کے لیے ‘اُسوہ حسنہ’ قرار دیا۔اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے :
"بیشک ہم نے آپ کو اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا ہے”۔

ساتھیو!
ایک شعر عرض کرتا ہوں؀

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے

اخلاقیات ہی انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں۔ اگر اخلاق نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کی جماعت انسان نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی۔

اس کے بعد حکمت کی ان باتوں کی مزید تشریح کی گئی ہے جیسے خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، والدین کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا، نیچی آواز میں بات کرنا۔ ان آیات کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اصطلاح میں ان فطری امور خیر کو بھی جن کا خیر ہونا فطرتاً تمام قوموں اور مذاہب میں مسلم ہے اور جن کو دوسرے معنی میں اخلاق کہہ سکتے ہیں، ’’حکمت‘‘ کہا گیا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضورصلی االلہ علیہ وسلم کی شریعت میں اخلاق کا مرتبہ حکمت کے لفظ سے تعبیر ہوا ہے۔

سامعین کرام!
یہ صفت اپنے اندر پیدا کرنا مشکل کام نہیں ہے۔ اس خوبی کو اپنانے کے لیے ایک شخص کو دوسرے شخص سے حسد نہیں کرنا چاہیے۔ بہت بڑی بڑی خواہشات کے پیچھے ہر وقت نہیں بھاگنا چاہیے۔اپنی زندگی میں آنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ہی بھرپور انداز سے اپنا لینا چاہیے۔

آئیے آج ہم بھی یہ عہد کریں اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے ہم لوگ خود کو وقت دیں۔ دو گھڑی فرصت کے لمحات میں اپنے کردار میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچیں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جائیں۔
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements