Advertisement

جنابِ صدر ، محترم پرنسپل صاحب معزز اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو!
السلام علیکم !
مجھے آج جس موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے ’’ صفائی ‘‘
صدرِ مجلس !
اسلام صفائی پسند مذہب ہے۔ جو انسان کو پیدائش سے لے کر موت تک صاف ستھرا رہنے کی تعلیم دیتا ہے اور اس میں انسانی جسم کی صفائی سے لے کر سوسائٹی ، گلی ، محلہ اور پوری قوم تک کے لیے صفائی کے احکامات موجود ہیں۔ حتٰی کہ انسان کی جملہ عبادات کے لیے وضو کا مشروط ہونا صفائی کی اہمیت کو ہی اجاگر کرتا ہے۔

Advertisement

صفائی کا مطلب صاف ستھرا رہنا ہے۔ ہمیں روحانی صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ہمارا جسم اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے اور ایک تندرست جسم صحت مند تب ہی رہ سکتا ہے جب تک اس کی مناسب صفائی کی جائے۔ اس لیے جسم کو صاف رکھنا بہت ضروری ہے۔ جہاں صفائی ہوتی ہے وہاں سے بیماریاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔

Advertisement

صفائی اللہ کا حکم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل سنت ہے۔ صفائی روحانیت کی غذا ہے۔ صفائی محبت و پیار کی کہانی ہے، صفائی انسانی کشش کا سبب ہے۔ جہاں صفائی ہوگی وہاں صحت ، خوشی ، روشنی اور مسکراہٹیں ہونگی۔ جیسے سورج نکلنے سے اندھیرا بھاگ جاتا ہے اسی طرح صفائی کے آنے سے بیماریاں ، غم، تاریکیاں ، نحوستیں رخصت ہوجایا کرتی ہیں۔

Advertisement
 صفائی عجب چیز دنیا میں ہے
صفائی سے بہتر نہیں کوئی شے

صدرِ محترم !
ہمارا دینِ اسلام بھی ہمیں صاف ستھرا رہنے کی ہدایت دیتا ہے اور صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ صفائی اسلام کا بہترین عمل ہے۔ نماز جیسے بنیادی اسلامی رکن کی ادائیگی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہمارا جسم ، لباس اور وہ جگہ جہاں ہم نماز پڑھیں پاک صاف نہ ہو۔ صحت کو برقرار رکھنے کے لیے غسل بہت ضروری عنصر ہے۔ یہ صفائی کا بنیادی عمل ہے۔ اس لیے ہمیں غسل کو معمول بنا لینا چاہیے۔ اس سے ہماری صحت اچھی رہے گی۔

صفائی کو رکھو ہمیشہ عزیز
صفائی سے بڑھ کر نہیں کوئی چیز

صدر ذی وقار !
اپنی صفائی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی گلی اور محلے کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا ہے۔جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کرنا چاہیے۔ محلے میں جہاں کوڑا کرکٹ ہو گا وہاں مکھیاں آئیں گی اور ان مکھیوں سے بیماریاں پھیلیں گی اور صحت متاثر ہوگی۔ اس لیے مل جل کر محلے کی صفائی کا خا ص خیال رکھنا چاہیے۔

Advertisement

عزیز ساتھیو!!
اسلام میں تن کی صفائی کے ساتھ من کی صفائی پر بھی زور دیا گیا ہے ، ظاہری صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ہمارے دل سے حسد ،لالچ ،غرور اور تکبر کا نام و نشان مٹنا چاہیے۔اس طرح تن کی صفائی کے ساتھ من کی صفائی بھی ضروری ہے۔

میرے ہم وطنو ملک و قوم کو اپنا گھر جانو۔ اپنے گھر کے سامنے پڑوسی کے گھر کو بھی اپنا جانو۔ یہاں وہاں گندگی نہ پھیلاؤ۔ ہم لوگوں کو اپنی غلطیوں سے اب سیکھنا چاہئے۔ گندگی سے اور کوئی نہیں ہمارے اپنے اخلاق گدلے نظر آئیں گے۔
اللہ ہم سب کو اپنی زندگیوں میں مذہبِ اسلام اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
شکریہ۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement