صاحبِ صدر اور میرے کاروانِ علم و ادب کے ہم سفرو! السلامُ علیکم

اے وطن تجھ سے نیا عہدِ وفا کرتے ہیں 
مال کیا چیز ہے ہم جان فدا کرتے ہیں

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کوئی چاہے جو طریقہ بھی اختیار کرے، کسی نہ کسی طور پر حُب الوطنی کا جذبہ ضرور رکھتا ہے لیکن بات درست ہے بھی اور نہیں بھی۔ ہر شخص اپنے اپنے انداز میں وطن سے محبت کرتا ہے۔

حُب الوطنی اک ایسا جذبہ ہے جس کے تحت ہم اپنے ملک کو دوسرے ممالک پر ترجیح دیتے ہیں۔ حُب الوطنی قومی اتحاد اور سالمیت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آج کے اس گہما گہمی کے دور میں ہم اتنا آگے نکل گئے ہیں کہ صرف اور صرف اپنی ذات کی فکر ہے۔ لیکن ایسی بھی بات نہیں کہ حُب الوطنی کا جذبہ ہم میں ہے ہی نہیں۔ ہمارے دل کے کونے میں کہیں نہ کہیں یہ سچا جذبہ آج بھی موجود ہوگا۔ درحقیقت حُب الوطنی ہی ایک عظیم طاقت ہے جس نے تمام عوام کو ایک قوم کی صورت میں متحد رکھا ہے۔

جناب والا! جنت سے کہیں بڑھ کر حسیں میرا وطن ہے ہم سر ہے فلک کی جوز میں میرا وطن ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں حضور اکرم ﷺ کے حُب الوطنی سے سرشار کلمات سنہری حروف میں ثبت ہیں ۔ جس وقت آپ ﷺ اپنے وطن مالوف مکہ مکرمہ سے کفار کی ظلم و زیادتی کی بناء پر ہجرت فرما رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اے مکہ! تو کتنا پیارا شہر ہے ، تو مجھے کس قدر محبوب ہے ، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی دوسرے مقام پر سکونت اختیار نہ کرتا۔‘‘ (ترمذی)

ساتھیو! حُب الوطنی اور نظریہ پاکستان ایک ہی کوکھ سے جنم لینے والے دو الفاظ ہیں جن کی بنیاد لا الہ الا اللہ محمد الرسولُ اللہ ہے۔ اسے نظر انداز کر کے نہ حب الوطنی کا بوٹا ہرا رہ سکتا ہے اور نہ ہی نظریہ پاکستان کے جثّے میں جان باقی رہتی ہے۔ اگر کسی قوم کے افراد حب الوطنی کے جذبے سے عاری رہیں گے تو اس قوم کا شیرازہ بکھرنا یقینی ٹھہرتا ہے۔ زبان و بیان اور رنگ و نسل کے بتوں کی پرورش پھر صوبوں اور قبائل کے درمیان زنجیر کی کڑیوں کو توڑ دیتی ہے۔ اسی لیے حکیم الامّت علامہ اقبال ارشاد فرماتے ہیں کہ : "بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملّت میں گم ہو جا نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی”

صدر عالی وقار، پاکستانی قوم بہادر اور خلوص سے سرشار ہے جو ہمیشہ سے دوسروں کی حفاظت کیلئے اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ قوموں اور ملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں۔ یہ دن فرزندان وطن سے حفاظت وطن کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں، ماؤں سے ان کے جگر گوشے اور بوڑھے باپوں سے ان کی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ چھ ستمبر یومِ دفاع پاکستان ہر سال انہی قربانیوں اور انہی باہمت گھرانوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے منایا جاتا ہے تاکہ ہم ان غیور پاکستانیوں کو اس بات کا احساس دلا سکیں کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پورا پاکستان انکے ساتھ ہے. آپ سب کی سماعتوں کا بہت بہت شکریہ۔

Advertisements