آزادی ایک پر تقریر

صدر محترم ومعزز حاضرینِ کرام!!!
اسلام و علیکم!

اپنی آج کی اس تقریر میں زیرِبحث موضوع جس کا عنوان "جمہوریت” ہے اس لفظ کی تعریف و تنقید میں سفید و سیاہ پہلوؤں پر روشنی ڈالنے جا رہا ہوں۔ بہت سے لوگ اس کے مطالب سے بھی واقف ہونگے اور کچھ جمہوریت کی سیاہ کاریوں سے ناواقف بھی۔ ممالک میں کیا نظام جاری و ساری ہے، کس نے کیا کہا، کیا ہوا ، کچھ بولا کچھ تولا، سب کچھ جمہوریت سے ہی منسلک ہے۔
جیسا کہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔۔۔

اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے!!

جنابِ عالی!
جمہوریت لفظی طور پر عوامی منتخب شدہ حکومت کی ایک شکل ہے۔ حکومت کو ہم عوام یہ اختیار اس لئے دیتے ہیں کہ وہ قانون ساز اسمبلی بنائیں اور عوام کی فلاح و بہبود کا سوچیں۔ ان امور کی کچھ بنیادیں آزاد حیثیت سے اسمبلی اور تقریر ، شمولیت اور مساوات ، رکنیت ، رضامندی ، ووٹنگ ، زندگی کا حق اور اقلیتی حقوق ہیں۔

ایک دستور ساز اسمبلی کا یہ کام ہے کہ عوام کی بہتری کے لئے کچھ کام کرے۔ مگر دورِحاضر میں سب کچھ اس کے بالکل برعکس ہورہا ہے۔ عوام بھوکی مر رہی ہے، غریب کو انصاف میسر نہیں، جہاں دو دو قانون ایک ٹریک پر چل رہے ہوں، امیر کا ایک قانون غریب کا دوسرا قانون۔
تو سامعین! میں ایسے قانون کو تسلیم نہیں کرتا۔ میں ہرگز ایسی جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتا جس میں کم سِن بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو عبرت کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ جہاں میری سرحدیں بنا جنگ کے ہر سال ۱۰ ہزار فوجیوں کی لاشیں دیتی ہوں اور جمہوریت کے ٹھیکےدار پچاس پچاس برس تک اقتدار کے ایوانوں میں گرمی میں سرد اور سردی میں گرم دفتروں میں دراز ہو کر ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہوں۔
جمہوریت کا نظام عوام کی بہتری کے لئے ہونا چاہئے مگر یہاں میرے اعلیٰ عہدےداروں نے اپنے لئے اس جمہوریت کو ڈھال بنا لیا ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس جمہوریت نے ہمیں دیا ہی کیا ہے۔ انصاف کا فقدان، سفارشوں کی بھرتیاں، نااہلوں کا اقتدار۔
جمہوریت کی سیاہی کو اقبال نے کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔سماعتوں کا طالب ہوں۔

کیا تو نے دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندرون چنگیز سے تاریک تر

عصرِحاضر میں یہ جمہوریت اس قدر نفسیاتی ہوگئی ہے کہ رقص و تماشا بنتی جارہی ہے۔ آزادی حق کا نام ہے۔ جمہوریت جس میں آپ اپنے نمائندے اپنے ووٹ کی طاقت سے لاتے ہو مگر پھر پانچ برس تک وہ نمائندے جو چاہیں کریں ان پر سب حلال ہو جاتا ہے۔آج کل جمہوریت دراصل جاگیردارانہ نظام بن گیا ہے۔

پاکستان کی آزادی کے بعد جمہوریت غیر معمولی طور پر ناکام ہوگئی کیونکہ پاکستان میں کمزور اور بکھری ہوئی سیاسی جماعتیں موجود ہیں جو حکومت کرنے والے کلیدی تنازعات کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
اقتدار کی حوس میں بوٹوں والوں نے بھی کئی بار ایوانِ اقتدار میں پریڈ کرنا شروع کردیا تھا۔

یہاں مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید
وہاں مرض کا سبب ہے نظامِ جمہوری

Advertisements