صدر زیشان و حاضرین محفل! ماحولیات بظاہر ایک بہت خشک اور غیر دلچسپ موضوع ہے جس پر اصلاحی، تعمیری اور معلوماتی تقریر لکھنا آسان نہیں مگر میرے چند الفاظ آپ کی سماعتوں کے محتاج ہیں۔

جناب والا! یہ کائنات بنی نوع انسان کے لیے اللہ کی قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے جسے خود انسانوں ہی کے ذریعے دھیرے دھیرے گندہ اور آلودہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب جبکہ اس کے برے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں تو ہم اس کی خوب صورتی،دل کشی اور توازن کو قائم رکھنے کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ ان دنوں ماحولیات کا تحفظ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ہم نے اس زمین کو جس پر ہم بستے ہیں غلاظتوں اور گندگی کا انبار بنادیا ہے، اس بات سے بے خبر کہ انسانی زندگی اس کے مہلک اثرات کا شکار ہورہی ہے۔ جنگلوں میں درختوں کو اس بے دردی سے کاٹا جارہا ہے کہ اس کے اثرات موسموں پر صاف جھلکنے لگے ہیں۔ ہوا جو سبھی جانداروں کے لیے ضروری ہے وہ کارخانوں کی چمنیوں سے نکلتے دھوئیں، کیمیاوی تجربہ گاہوں سے چھوڑے گئے کچرے اور سڑکوں پر چلتی ہوئی موٹر گاڑیوں کی کثافتوں سے اس قدر آلودہ ہوچکی ہے کہ انسان مختلف قسم کی خطرناک بیماریوں میں گرفتار ہورہا ہے جو اپنے اثرا ت جلد سے لے کر پھیپھڑے تک پر دکھا رہی ہے جس کی عبرت ناک مثال گزرے دنوں میں دیکھنے کو ملی ہیں ۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ۵ جون کو ماحولیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد عوام میں ماحول کی بہتری اور آلودگی کے خاتمہ سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس دن کو منانے کا اہتمام سب سے پہلے ۱۹۴۷؁ میں اقوام متحدہ کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کے بعد اب ہر سال یہ دن ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے عزم کیساتھ منایا جاتا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں ماحولیات کے عالمی دن کی حوالے سے واک، سیمنارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافے کی ایک بڑی وجہ یہاں کے جنگلات کی مسلسل کٹائی بھی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت کی طرف سے ہر سال درخت لگانے کی نام نہاد مہم کا بھی آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پھل دار جنگلات کی تعداد میں اضافہ کر کے نہ صرف ماحولیاتی مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ درختوں سے حاصل شدہ پھلوں کی فروخت کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ کا حصول بھی ممکن ہے ۔ اس کے متعلق انورمسعود ’’سنگِ راہ‘‘ کے عنوان سے ایک قطعے میں کہتے ہیں : ہم اپنی بے قرینہ کاوشوں سے خود اپنی رَہ میں حائل ہو گئے ہیں ہمیں قدرت نے بخشے جو وسائل مسائل در مسائل ہو گئے ہیں ہمارا بےدردی سے پانی کا استعمال بہت منفی تبدیلی مرتب کر رہا ہے۔ پانی کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھنا اوراس کے استعمال میں بہتر طریقہ اپنانا انسانوں کی ذمہ داری ہے تاکہ پانی سے زندگی بخشنے والی صلاحیت ختم نہ ہو۔ پانی میں رہنے والے جاندار بھی زندہ رہ سکیں اور پانی کا استعمال کرنے والے بھی زندگی پاسکیں۔ اسی دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا مالک اس دھرتی پر اپنا کرم فرمائے. آمین شکریہ