>

معزز صدر قابل احترام سامعین!
میری تقریر کا عنوان انسانی تاریخ کا سب سے خوبصورت پہلو یعنی دوستی پر ہے۔ دوستی انسانوں کے درمیان ایک رشتے اور تعلق کا نام ہے۔ اس تعلق کی ایک طرف کو دوست کہتے ہیں۔ یہ تعلق ممکن ہے باہمی ہو یا ایک طرفہ ہو۔ یہ رشتہ محض تعلق نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تعلق ہے جو دو یا دو سے زیادہ انسانوں کو محبت، سچائی، تعاون، اخلاص، باہمی تفاہم اور اعتماد کے رشتہ میں ایک دوسرے سے منسلک کرتا ہے۔ ان ارکان میں سے کسی ایک کے کم ہونے سے دوستی کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔

عالی وقار!
ایک اچھا دوست اپنے دوست کا ماں کی طرح خیال رکھتا ہے۔ باپ کی طرح ڈانٹتا ہے۔ بہن کی طرح چھیڑتا ہے۔ بھائی کی طرح ستاتا ہے اور معشوقہ کی طرح زیادہ پیار کرتا ہے۔ دوست وہ ہوتا ہے جو چلتے وقت ہمارے قدم بن جاتا ہے۔ کھوجاتے ہیں تو ڈھونڈ لاتا ہے ، اداس ہوتے ہیں تو مسکان لاتا ہے اور روتے ہیں تو ٹشو پیپر بن کر ہمارے آنسو بھی پونچھتا ہے۔

دوست وہ ہے جو ہمارے دکھ کو بانٹ کر اسے آدھا کردیتا ہے۔ دوست وہ ہوتا ہے جو ہماری خوبیوں ، خامیوں سے واقف ہوتے ہوئے بھی ہمیں پسند کرتا ہے ، جو ہمارے خراب موڈ کو بھی ہنس کر برداشت کرلیتا ہے۔ جو ہمارے چھوٹے چھوٹے آنسوؤں کے پیچھے چھپی بڑی بڑی وجوہات کو بنا سنے ہی جان لیتا ہے۔ دوست جو ہمیں متاثر کرتا ہے، ہمیں پڑھتا ہے ، ہمیں سمجھتا ہے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ کچھ دوست تاروں کی طرح بھی ہوتے ہیں۔ ہم سے بہت دور جو اکثر دکھائی نہیں دیتے لیکن ہمیں ان کے وجود کا احساس رہتا ہے۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؀

دوستی عام ہے لیکن اے دوست 
دوست ملتا ہے بڑی مشکل سے

دوستی میں کہیں مزاج ملتے ہیں کہیں عادات! کبھی زبان، جگہ کی وجہ سے تعلق بنتا ہے اور کہیں کسی کا خیال رکھنے والا رویہ اس سے قریب لاتا ہے۔ اس میں عمر کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔

دوستی کا عالمی دن عالمی پیمانے پر ہر سال 30 جولائی کو منایا جاتا ہے۔ کسی بھی زمانے میں دوستوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا گیا۔ ہر دور کا ہر انسان ایک مخلص اور سچا دوست چاہتا ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں اس دن کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ دوستی انسان کے عزیز ترین رشتوں میں سے ایک ہے اور دنیا میں وہ انسان غریب ہے جس کے پاس ایک بھی مخلص دوست نہ ہو۔

دوستوں کے ایک مصافحے پر اپنے دل کی ڈور ان کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں آنکھوں کے اشاروں سے الجھن سما دیتے ہیں اور ایک بار گلے لگتے ہی تمام دنیا سے چھپائے ہوئے خوف و الم الف تا ے سنادیتے ہیں۔
اﷲ ہم سب کو بہترین دوست عطا فرمائے ہمیں اپنے دوستوں کیلئے بہترین دوست بننے کی ہمت دے اور ہمارے دوستوں کی حفاظت فرمائے اور دنیا کے دوستوں کوجنت کے راستوں کا ہمراہی بنا دے تاکہ وہاں بھی ہم ساتھ رہیں۔
شکریہ۔

Close Menu