السلام علیکم سامعین کرام!
میں اس وقت جو موضوع لے کر آپ کے سامنے حاضر ہوا ہوں وہ جان کر آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ ہم موجودہ دور میں کتنے نازک وقت سے گزر رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یکم مئی کے روز یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ نابالغ بچوں سے جو محنت مزدوری کروائی جاتی ہے وہ کس زمرے میں آتی ہے؟ کیا کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے ملک میں موجود کتنے ہی بچے محنت مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ جانے کتنے ہی پھول سے بچے ہیں جن کے نازک ہاتھوں میں کتابیں کھلونوں کی جگہ اینٹ اور سیمنٹ جیسی چیزیں ہوتی ہیں۔

صدر عالیٰ وقار کتنے ہی پیارے چہرے ایسے ہیں جن پر مسکراہٹ کی بجائے تفکر کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ ان سب کی وجوہات یہی ہو سکتی ہیں کہ اول تو ان بچوں کے والدین نہ ہوں یا پھر ہوں تو معذور ہوں۔ دوم انہوں نے غربت و افلاس میں ہی آنکھیں کھولی ہوں اور سوم یہ کہ حالات نے انہیں اس کام پر مجبور کیا ہو۔

سامعین کیا کبھی آپ میں سے کسی نے یہ سوچا ہے کہ یہ ننھے بچے جنہیں آپ چھوٹا کہتے ہیں یہ اپنے گھر کے بڑے ہوتے ہیں۔ ان کا بھی دل کرتا ہے کہ ہم اچھا پہنیں ، اچھا کھائیں ، خوشی سے رہیں لیکن وقت انہیں ان کے بچپن سے کھینچ کر بڑا ہونے پر مجبور کردیتا ہے۔ ہم مکمل طور پر ان کی پرورش کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے ہیں تو نہ سہی لیکن ہم ان کے لیے کم از کم کچھ تو کر ہی سکتے ہیں۔ تو ہمیں کرنا یہ ہے کہ اول تو کسی ایسے بچے کو جو ہمارے اطراف میں مزدوری کرتا ہے اسے خوش رکھیں کچھ نہیں تو پاس سے گزرتے ہوئے اسے ایک مسکراہٹ ہی کا تحفہ دیتے جائیں۔

محترم لوگو جب کبھی ہمارے گھر میں کسی بھی نوعیت کا کوئی فنکشن ہو تو انہیں بھی اس کا حصّے دار بنائیں۔ انہیں یہ احساس قطعی نہ ہونے دیں کہ وہ اجنبی ہیں یا ان فٹ سے ہیں۔ اگر آپ انھیں اپنی کفالت میں نہیں لے سکتے تو کم از کم اتنا کریں کہ ہر ماہ کچھ پیسے جو آپ پیزا کھانے ، دوستوں کے ساتھ گھومنے ، شاپنگ کرنے میں اڑا دیتے ہیں ان میں سے کچھ پیسے بچا کر ان پیارے بچوں میں تقسیم کر دیا کریں۔ لیکن خیال رہے کہ اس دوران نہ ہی آپ کے چہرے پر احسان کا کوئی تاثر ہو، نہ ہی دل میں کوئی گمان ، کیوں کہ نیکی کر کے آپ ان کا نہیں خود کا بھلا کر رہے ہیں۔

بچے پھولوں کے مصادق ہوتے ہیں آپ اگر انہیں اس دلدل سے نکال نہیں سکتے تو کوشش کریں کہ ان کو آپ کی طرف سے کوئی تکلیف بھی نہ ہو اور آپ کا عمل انہیں خوشی دے۔

سامعین کرام حکومت نے جو پالیسیاں بنائی ہیں ان سے ننھے مزدوروں کو واقف کرائیں تاکہ وہ اگر آپ کا احسان نہیں لینا چاہیں تو کم از کم خود کے لئے راہیں ہموار کر لیں۔ بچے قوم کا مستقبل ہیں اور اس مستقبل کو سنوارنا بگاڑنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ ملک کے اس معمار کی مدد کریں اور ہوسکے تو ان کے ہاتھوں میں کتابیں تھمائیں تاکہ ہمارا ملک مستقبل میں ترقی کی جانب ہی گامزن رہے۔
شکریہ۔

Advertisements