قلم جب اٹھاتا ہوں لکھتا ہوں ماں
میں جب لب ہلاتا ہوں بولتا ہوں ماں

جناب عزت مآب صدر مقرر سامعین کرام!السلام علیکم! آج کی میری تقریر کا عنوان ماں ہے۔

جناب والی!
ماں کا شیریں لفظ اپنی تکوین و تجسیم کے دامن میں اقوام عالم کے بیکراں معانی و تفاہم سمیٹے ہوئے ہے۔ حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہیں کہ ’’ماں‘‘ اہلِ زمیں کیلئے ربِّ کریم کا تحفہ ہے۔ یہ درد مندی کا گرانقدر نسخۂ کیمیا اور نااُمیدی کے اندھیروں میں روشن چراغ ہے۔ ماں کی ممتا جہاں میں احساسات کا لطیف ترین جذبہ ہے۔ ماں کسی بھی رنگ و نسل سے ہو اس کی چھاؤں اولاد کیلئے گھنا سایہ اور سرمایہ ہے۔

معلم انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کے مقام کو جس انداز میں بیان فرمایا ہے اس سے ماں کے نام کے معانی کی عظمت پر مہر ثبت ہوگئی۔ ” ماں ” میم سے …. محبت کرنے والی،، الف سے…. ایثار کرنے والی،، اور نون سے…. نڈر ، نہ خفا ہونے والی ہے۔
ماں اس کائنات کے سب سے اچھے، سچے اور خوبصورت ترین رشتے کا نام ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کائنات میں سب سے خوبصورت چیز تخلیق کی وہ ماں باپ ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا، بالخصوص ماں جیسی ہستی کو سب سے زیادہ فوقیت حاصل ہے۔

باپ تو گھر کے باہر کے تمام امور انجام دیتا ہے، باہر کے تمام کام اس کے ذمے ہوتے ہیں۔ وہ صبح کا گیا رات کو گھر لوٹتا ہے، اس پورے عرصے میں صرف ماں کی ذات ہے جو گھر کو سنبھالتی، سنوارتی اور چلاتی ہے۔ وہ گھر کے تمام تر معاملات کی ذمے دار ہوتی ہے، خاص طور پر بچوں کی پرورش، دیکھ بھال، ان کی خوراک، لباس، کھیلنے کودنے کے اوقات مقرر کرنے، گھر میں بہترین نظم و ضبط قائم رکھنے میں اس کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بچوں کی زبان، گفتگو، لب و لہجہ کو تہذیب یافتہ بنانے میں ایک ماں کا کردار خصوصی طور پر بہت اہم ہوتا ہے۔

عالی وقار!


چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

ماں کے اس رشتے کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ مقصود کائنات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے“۔ حضرت رابعہ بصری نے کہا کہ :
“جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں ، اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو پھر میں اللہ کے آگے جھک جاتی ہوں یا پھر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کے جی بھر کے رو لیتی ہوں“ حضرت شیخ سعدیؒ نے کہا : ’’محبت کی ترجمانی کرنے والی اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف ماں ہے‘‘ مشہور مفکر اور شاعر علامہ اقبال نے کہا : ’’سخت سے سخت دل کو ماں کی پُرنم آنکھوں سے موم کیا جاسکتا ہے‘‘

روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا :  ”یارسول اللہﷺ !میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟“
فرمایا : ”تیری ماں“
پوچھا : ”پھر کون“
فرمایا : ” تیری ماں “
اُس نے عرض کیا : ”پھر کون “
فرمایا : ”تیری ماں“
تین مرتبہ آپ نے یہی جواب دیا ۔چوتھی مرتبہ پوچھنے پر ارشاد ہوا : ”تیرا باپ“

صدرِ عالی وقار!!
دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس نے بچوں کو اپنا دودھ پلا پلا کر پالا پوسا ، اُن کی پرورش میں اپنی ہر راحت کو قربان کیا ، اپنا ہر آرام ترک اور اپنی ہر خواہش کو نثار کردیا۔

بے شک اس مقام و مرتبے کو بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں مگر ایک شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements