>

قومی یکجحتی پر ایک تقریر

دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو 
نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو

جناب صدر سامعین اکرام میرے عزیزو!
السلام علیکم!
آج کی میری تقریر کا عنوان قومی اتحاد یا قومی یکجہتی ہے۔۔۔
اتحاد میں بڑی طاقت اور اخوت ہے۔ کسی ملک کی بقا کا انحصار قومی یک جہتی اور اتفاق پر ہوتا ہے۔ کوئی جماعت، کوئی ملک، کوئی قوم اقوام عالم کی نگاہ میں عزت و آبرو اور وقار و احترام کا مقام نہیں پاسکتی جب تک کہ اس کے افراد میں یک جہتی اور ہم آہنگی نہ ہو۔ قومی اتحاد کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا تصوّر بھی ایک خام خیال ہے۔ انفرادی اور اجتماعی اقبال ایک خواب ہے۔کسی شاعر نے خوب بیان کیا؀

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں 
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

جناب والا!
قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے جس میں سے وہ اتحاد و اتفاق ہی کی طاقت سے نکالا جاسکتا ہے۔ یہ اتحاد ہی وہ طاقت ہے جس کی بدولت اقوام مشکلات پر قابو پا کر کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ تاریخ کے جس موڑ پر ہم اس وقت کھڑے ہیں، وہ ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہا ہے۔

وطنِ عزیز اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ آپس کے اختلافات ختم کرنے اور اتحاد و یگانگت کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ ہماری مشرقی و مغربی سرحدیں توجہ مانگ رہی ہیں۔ امن و امان کی بدترین صورت حال، معیشت کی بدحالی، توانائی کا بحران ان تمام مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہمیں ذاتی اور اجتماعی سطح پر صبر و برداشت اور سخت محنت کی ضرورت ہے۔ اس دوران اللہ کے فضل اور آپس میں مل جل کر رہنے میں ہی عافیت ہے جس سے ملک و قوم ایک مثبت راہ کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔مل بیٹھنے پر ایک شاعر نے موتی پروئے ہیں؀

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے 
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

عزیز سامعین!
ہمارے آپس کے مسائل بھلے حد سے بڑھ جائیں۔ ہم لسانیت، قوموں ،مذہبوں اور رنگ و نسل میں بھلے بٹ چکے ہوں۔ یہ ہماری قومی خوش نصیبی ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں ہم ایک ہو جاتے ہیں اور سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ اگر کسی دشمن نے اپنی بُری نگاہ سے ارضِ پاک کی جانب دیکھا یہ قوم ایک مٹھی کی مانند یکجا ہو جاتی ہے۔

صدر عالی وقار!
ملت اسلامیہ کی رہنمائی کے لئے قرآن حکیم فرقان حمید کی شکل میں ایک مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔ جو اتحاد اور ربطِ باہمی کا درس دیتا ہے اور ایک واضح مقصدِ حیات پیش کرتا ہے۔ ایک منزل کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لئے افراد کو قدم سے قدم ملا کر دوش بدوش گامزن ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ متحد و متفق ہوکر آگے بڑھیں تو کوئی بھی مخالف قوت ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ ایک ایسا طوفان بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے دریاوں کے دل بھی دہل جائیں گے اور جس کے متحد عزم و ارادوں کے آگے پربت رائی ہوکر رہ جائے۔

اسی دعا کے ساتھ آپ سب سے اجازت چاہوں گا۔۔
اللہ ہم سب کو قرآن و سنت کی روشنی میں ملک و قوم کے مفاد کے لئے ایک پرچم کے سائے تلے جمع ہونے کی توفیق دے۔۔ آمین۔۔۔
شکریہ

Close Menu