صدر عالی وقار معزز سامعین اکرام!
السلام علیکم!!
آج میری تقریر بہت اہم اور توجہ طلب ہے جس کا عنوان غربت ہے۔
غربت کی اصطلاح کا ذکر عام طور پر کسی انسان یا معاشرے کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے پس منظر میں کیا جاتا ہے۔

اگرچہ غربت کی تعریف ہر خطے کے ماحول ، زمینی حقائق اور معروضی حالات کے مطابق مختلف کی جاسکتی ہے تاہم عام اصطلاح میں غربت کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ جس معاشرہ میں رہنے والے شہری زندگی کے کسی بھی شعبے میں بنیادی ضروریات کی سہولیات سے محروم ہوں۔
ایک شاعر کی آہ؀

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر 
آج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

جناب صدر!
پاکستان ۱۹۴۷ء میں غریب ملک تھا مگر اس کی معاشی حالت چین، بھارت اور دنیا کے کئی دوسرے ممالک سے بہتر تھی۔سیاسی قیادت مثالی تھی۔ پہلی وفاقی کابینہ معیاری تھی ابتدائی سالوں میں بجٹ خسارے کا نہیں تھا۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ دنیا کے کئی ممالک پاکستان کے معاشی منصوبے اپناتے رہے۔ آج کا پاکستان دنیا کا پسماندہ اور غریب ملک ہے۔ ایک فیصد پاکستانی نصف قومی دولت پر قابض ہیں اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں جبکہ ۹۹ فیصد شہریوں کی زندگی مشکل ہوچکی ہے۔

پاکستان کی روزبروز بڑھتی ہوئی آبادی غربت کا بڑا سبب ہے۔ آزادی کے وقت پاکستان کی آبادی ۵ کروڑ تھی جو آج ۲۰ کروڑ ہوچکی ہے اور ۲.۵ فیصد شرح سے بڑھ رہی ہے۔ وسائل کم ہیں اور آبادی زیادہ ہے جس کی وجہ سے غربت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

سامعین!
غربت کی سب سے بڑی وجہ آبادی میں اضافہ ہے۔ ہم اس کو ایک مثال سے سمجھائیں گے۔ ” جیسے ایک گھر میں دو افراد ہیں دونوں کے پاس دو روٹیاں ہیں۔ اگر ان کے گھر میں دو اور آدمی آجائیں تو ان کو آدھی آدھی روٹی نصیب ہوگی۔ اسی طرح اگر چار اور آ جائیں تو ان سب کو دو روٹیوں کا چوتھا حصہ نصیب ہو گا۔ اب یہاں بات یہ غور کرنے والی ہے کہ ہر فرد اپنے حساب سے الگ سسٹم رکھتا ہے یعنی کوئی بندہ ایک روٹی کھا کر سیر ہوتا ہے کوئی دو کھا کر۔ اب جو لوگ زیادہ خوراک کھانے والے ہیں ان پر بُرے اثرات پیدا ہوں گے اور وہ برائی پر اتر آئیں گے”

ساتھیو!
دراصل انسانوں کو ابھی تک کوئی اچھا معاشی نظام نہیں مل سکا جس پر وہ سب متفق ہوں اور چل سکیں۔ اگر کوئی اچھا نظام ہو تو بہت سارے طبقے اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ سود کی وجہ سے انسانوں کا ایک گروہ امیر سے امیر ہوتا جاتا ہے جبکہ دوسرا گروہ غریب سے غریب ہوتا چلا جاتا ہے۔

جب ایک معاشرے میں علم و ہنر کی کمی ہو تو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ جب کسی فرد کو یہ ہی نہ معلوم ہو کہ اس نے اپنی زمین میں کیا اور کیسے بونا ہے تو وہ کیا کاٹے گا۔

بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے 
ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

سامعین!
مہنگائی کا خاتمہ کب ہوگا۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان نت نئے تجربات سے گزرتا جا رہا ہے۔ سارے تجربات غریب عوام پر کیے جا رہے ہیں، غریب درمیانہ طبقہ ہی تختہ مشق بن رہا ہے۔ اللہ اہل وطن اور وطن عزیز کاحامی ناصر ہو۔ آمین!
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements