استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
ان ہی سے ہیں افراد ضیاء بار ہمارے

السلام علیکم حاضرینِ محفل!!
میرا آج کا عنوان بہت خاص ہے۔ آج میری تقریر کا موضوع اساتذہ کا عالمی دن ہے۔

پانچ اکتوبر کو منایا جانے والا یہ دن ہمیں اساتذہ کی اہمیت کے بارے میں بتاتا ہے۔ جب بےشمار طلباء اپنے اساتذہ کو کارڈز اور تحائف پیش کرتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ استاد روحانی باپ ہوتا ہے اور یہ پیشہ اپنانا دراصل سنتِ بنویﷺ کی پیروی کے مترادف ہے کیونکہ ہمارے نبی کا فرمان ہے :
       "اور میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں”

عزیز سامعین!!
اساتذہ کے لیے ایک دن مختص نہیں کرنا چاہیے بلکہ سارا سال اور پوری زندگی ان کی خدمت اور عزت کرنی چاہیے۔ اساتذہ کی نصیحتیں اکثر ہمیں  غیر اہم لگتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ ہی ان نصیحتوں کا اندازہ بھی انسان کو ہوتا ہے۔

پیارے لوگو!!
دنیا میں بہت کم لوگ دوسروں کو خود سے آگے نکلتا دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان میں سرِ فہرست تو  ہمارے والدین ہوتے ہیں اور دوسرے ہمارے اساتذہ جو چاہتے ہیں کہ ان کے طلباء ان سے بھی زیادہ کامیاب ہوں۔ وہ لوگ اپنے طلباء کی کامیابی کو ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔

حضرت علیؓ نے فرمایا :
  "جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھادیا میں اس کا غلام ہوں۔”
اس سے ہمیں اساتذہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت علیؓ نے چھ چیزوں کی شکایت کرنے سے منع فرمایا جن میں سے ایک شکایت اساتذہ کی شکایت ہے۔

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ استاد کی ذرا سی ڈانٹ پر بچے کے والدین استاد جو گھبردار کرنے پہنچ جاتے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے۔ ہمارے والدین ہمیں اس دنیا میں لاتے ہیں اور ہمارے استاد ہمیں جینا سکھاتے ہیں۔ ہماری جسمانی پرورش اگر ہمارے والدین کرتے ہیں تو ہماری روحانی پرورش کرنے کا ذمہ ہمارے اساتذہ اپنے سر لیتے ہیں۔

ایک مشہور واقعہ ہے کہ انگریز قوم نے علامہ اقبال کو سر کا خطاب دینا چاہا تو انھوں نے انکار کردیا اور خطاب قبول کرنے کی یہ شرط ظاہر کی کہ ان کے استاد کو بھی خطاب سے نوازا جائے۔ اس واقعے سے ہمیں اساتذہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

کسی ملک میں وکیل ، ڈاکٹرز ، انجنئیرز نے احتجاج کر کے مطالبہ کیا کہ ہماری تنخواہیں اساتذہ کی تنخواہوں کے کم کیوں ہیں تو ایک بہت خوبصورت جواب دیا گیا کہ :
"تمھیں ان اساتذہ جتنی تنخواہیں کیسے دی جاسکتی ہیں جن سے پڑھ کر تم اس مقام پر پہنچے ہو۔”

کہا جاتا ہے کہ بہت سے ممالک میں استاد کہیں پڑھانے جارہا ہو تو سب اسے راستہ دیتے ہیں کہ پہلے آپ گزر جائیں۔ افسوس کے ساتھ وطنِ عزیز میں والدین ہی کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کیا جاتا تو اساتذہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کیسے کیاجاسکتا ہے۔ اب استاد بھی اپنی اس خدمت کو پیسوں میں تولنے لگے ہیں لیکن اب بھی ایسے ایماندار اساتذہ و طلبہ موجود ہیں جو پوری لگن سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور  بیشک وہی لوگ کامیابی کی منزلیں بھی طے کرتے ہیں۔

ہمیں چاہیے پورا سال یا کم از کم اساتذہ کے عالمی دن اپنے اپنے اساتذہ کو خاص محسوس کروائیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
شکریہ۔

Advertisements