آج میری تقریر کا عنوان پشاور میں رونما ہونے والے انسانیت سوز واقعہ پر ہے۔

صدرگرامی!
جہاں بھی انسانیت سوز کچھ رونما ہو، شرمناک کچھ دکھائی دے، لرزہ خیز کچھ سنائی دے، وہاں ہر دل اداس ہوتا ہے، ہر چشم اشکبار ہوتی ہے۔
۱۶ دسمبر ۲۰۱۴ کو تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ چھ مسلح افراد نے شمال مغربی پاکستان کے شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملہ کیا۔ عسکریت پسند، سبھی غیر ملکی شہری تھے ، جن میں ایک چینی ، تین عرب اور دو افغان شامل تھے جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی اور الم ناک و شرمسار تاریخ رقم کر دی۔ میں پوچھتا ہوں بچے تو اللہ کے باغ کے پھول ہیں ان سے دشمن کیوں خوف کھائے ہوئے ہیں؟۔۔۔۔ ان معصوموں کا کیا قصور جو ان کو یوں توڑا گیا مسلا گیا۔۔۔

دوستو!
جون ۲۰۱۴ میں پاکستان آرمڈ فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں مختلف گروہوں کے خلاف مشترکہ فوجی کاروائی کی گئی تھی ، جو تشدد کی لہر کا مقام رہا ہے۔ فوجی جارحیت، آپریشن ضربِ عضب ۸ جون کو کراچی کے جناح بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں شروع کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔ یہ شمال مغربی پاکستان میں جاری جنگ کا ایک حصہ ہے جس میں اب تک ۲۱۰۰ سے زیادہ افراد جہنم وصل ہوچکے ہیں۔ فوج کے مطابق شمالی وزیرستان کا ۹۰ فیصد حصہ صاف ہوچکا ہے۔

جنابِ صدر حملے کے دن اسکول میں کل ۱۰۹۹ طلباء اور عملہ رجسٹرڈ تھا۔ حملہ صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوا۔ جب چھ بندوق بردار دھماکہ خیز بیلٹ پہنے دیواریں ترازو کرنے کے بعد اسکول میں داخل ہوئے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کینٹ کے قریب ورسک روڈ پر واقع ہے ، اور یہ آرمی پبلک اسکولز اور کالج سسٹم کا حصہ ہے جو پاکستان میں ۱۴۶ اسکول چلاتا ہے۔

خود کار ہتھیاروں اور دستی بموں سے یہ دہشت گرد براہِ راست کمپلیکس کے مرکز میں واقع آڈیٹوریم کی طرف بڑھے اور ابتدائی طبی امداد کے لئے جمع ہونے والے بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ، آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق دہشت گردوں کا کسی کو بھی یرغمال بنانے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ اس کے بجائے وہ زیادہ تر شاگردوں کو مارنا چاہتے تھے۔ جیسے ہی دہشت گردوں نے فائرنگ کی ، بہت سے شاگرد آڈیٹوریم کے دوسری طرف دو راستوں کی طرف بھاگے ، لیکن ان میں سے بہت سے شاگرد باغ فائرنگ کے دوران ہلاک ہوگئے۔ سکول کی پرنسپل کو بچوں کے سامنے جلا کر بچوں میں خوف و ہراساں پیدا کیا گیا۔

جوابی قوتیں تقریباً ۹۶۰ افراد کو بچانے میں کامیاب رہیں ، حالانکہ ۱۲۱ زخمی ہوئے۔ ۱۴۹ افراد شہید ہوئے ، جن میں ۱۳۴ بچے اور اسکول کے عملے کے ممبر شامل ہیں۔

حملوں کا جواب پاکستان نے سزائے موت پر اپنا موخر اٹھا کر شمال مغربی پاکستان میں جنگ کو تیز کرتے ہوئے اور فوجی عدالتوں کو آئینی ترمیم کے ذریعے عام شہریوں کو آزمانے کا اختیار دے دیا۔ ۲ دسمبر ۲۰۱۵ کو پاکستان نے پشاور کے لوگوں کے قتلِ عام میں ملوث چار عسکریت پسندوں کو پھانسی دے دی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ عمر خراسانی ۱۸ اکتوبر ۲۰۱۷ کو مشرقی افغانستان میں ڈرون حملے میں مارا گیا تھا، لیکن ۷ مارچ ۲۰۱۸ کو عمر خراسانی کو امریکی محکمہ خارجہ کے انعامات کی مطلوبہ فہرست میں شامل کر دیا گیا ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ۲۹ اگست ۲۰۱۶ کو سید زمان خان بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان کیس کے حملے میں ملوث دو مزید مجرموں کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ ہمیں پشاور کے اسکول کے وہ معصوم بچے یاد ہیں اور ہمیشہ یاد رہیں گے۔ ہم ان کے والدین کے دکھ درد کو کم تو نہیں کرسکتے لیکن ہم ان کے لیے دعا ضرور کرسکتے ہیں۔ خدا ملکِ پاکستان کے چپے چپے کی حفاظت فرمائے۔ اللہ ہم سب کا نگہبان ہو۔ آمین۔

Advertisements