السلام علیکم!
محترم جناب امیر محفل و حاضرین باتمکین!
آج کے اس جلسے میں ، میں سب کے سامنے جس اہم موضوع پر روشنی ڈالنے کی اپنی سی کوشش کررہا ہوں وہ عید الاضحیٰ ہے۔

قربانی مسلمانوں کا اہم مذہبی فریضہ ہے جسے ہر سال ملک پاکستان ،ہندوستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں منایا جاتا ہے۔ عید قرباں کا پیغام ہی دراصل ایثار و قربانی کا ہے۔ فلسفۂ قربانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربانی کے جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں کا تقویٰ مطلوب ہے اور اِسی تقوی کے حصول کیلئے قربانی کی سنت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عید الاضحٰی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اُس عظیم اور بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرنے کیلئے تمام عالمِ اسلام میں دس ذی الحجہ کو بڑے جوش و جذبہ سے منائی جاتی ہے۔

عالی وقار!
قربانی کا لفظ ’قربان‘ سے نکلا ہے۔ عربی زبان میں قربانی اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے، خواہ وہ ذبح ہو یا صدقہ و خیرات۔ لیکن عموماً یہ لفظ جانور کے ذبیح کیلئے بولا جاتا ہے۔ اگر عید الاضحٰی سے قربانی کا تصور اور فلسفہ نکال دیا جائے تو پھر عید الاضحی کا مفہوم باقی نہیں رہے گا۔

عید الاضحٰی ایسا مبارک تہوار ہے جو اپنے ساتھ قربانی اور تقویٰ کا پیغام لاتا ہے، قربانی سے مراد ہر وہ عمل ہے جسے اللہ کی رضا کے حصول، اجر و ثواب اور اس کی بارگاہ کا قرب حاصل کرنے کیلئے انجام دیا جائے۔ اس روز ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کے حضور قربانی کا نذرانہ ایثار و عقیدت سے پیش کیا جائے اور غریبوں و مسکینوں کے گھروں میں قربانی کا گوشت خصوصی اہتمام کیساتھ بھجوایا جائے تاکہ وہ نہ صرف عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کر سکیں۔

عزیز سامعین
ہم میں بہت سے لوگ غریبوں، ناداروں، یتیموں اور ضرورت مندوں کو خالص گوشت تو تقسیم کرتے ہی ہیں لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ جن کے پاس خریدنے کیلئے پیسے نہیں ہوتے وہ مختلف پکوانوں کا ذائقہ نہیں لے سکتے۔ اگر گوشت کے ساتھ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ رقم بھی صدقہ جاریہ کے طور پر دے دی جائے تو یقیناً اُنہیں دُگنی خوشی مِلے گی۔ اور وہ بھی ہمارے ساتھ عید کی مسرتوں کا لطف اٹھا پائیں گے۔

آج بہت سے لوگ گوشت ریفریجریٹر میں محفوظ کر کے کئی دنوں تک استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ اللہ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ قربانی کے گوشت کا تیسرا حصہ قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والوں میں تقسیم کیا جائے۔ ہمارے پاس سال بھر میں عید الفطر اور عیدالاضحی دو عظیم تہوار ہی تو ہیں جنہیں جی بھر کر منایا جاتا ہے، ہر آنگن چمکتا ، چہکتا اور خوشیوں سے سجا نظر آتا ہے۔

میرے ساتھیو
ایسے میں بھلا ہم کسی سے پیچھے کیوں رہیں ، میرا آپ سب کیلئے پیغام ہے کہ عید پر اپنوں کا خاص خیال رکھیں، خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں اور غریبوں کا خاص خیال رکھیں۔
اللہ پاک ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں اِس کا بہترین اجر نصیب فرمائے۔ آمین۔
شکریہ۔

Advertisements