جناب صدر عزیز حاضرین کرام!
آج کی میری تقریر بہت دلچسپ اور اہم ہے جس کا عنوان فیشن ہے آپ سب کی سماعتوں کا طالب ہوں۔

فیشن کے معنی انداز، رواج، دستور، طور طریقہ، شکل، وضع قطع پہناؤ وغیرہ کے ہیں۔ لیکن آج کل کے دور میں فیشن وہ خطرناک وبا ہے جس نے بچے، بوڑھے، جوان، مرد، عورتوں سب ہی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور انسان کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو اس سے متاثر نہ ہوا ہو۔ وضع قطع سے لے کر عادات و اطوار تک ہر فعل آج فیشن کا محتاج نظر آتا ہے، یہاں تک کہ مرنے کے لئے بھی کسی خاص فیشن کو اختیار کیا جانے لگا ہے۔

جتنی تیزی سے اس وبا کا حلقہ وسیع ہو رہا ہے اتنی ہی تیزی سے اس میں تبدیلی بھی واقع ہوتی رہتی ہے اس لئے بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی نے کچھ نیا فیشن سمجھ کر اختیار کیا تو پتا چلا کہ یہ تو بہت پُرانا ہو چکا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں اور کاروبار اس کام پر چل رہے ہیں، بڑے بڑے عہدے اس کام سے منسوب ہو چکے ہیں، فنون کی فہرست میں اس کا نام آگیا اور اس کی تعلیم و تربیت کے لئے باقاعدہ سکول و کالجز کام کر رہے ہیں جن سے فارغ الفیشن لوگوں کو اسناد وغیرہ سے بھی نوازا جاتا ہے۔کسی شاعر نے بیان کیا؀

کچھ مہ جبیں لباس کے فیشن کی دوڑ میں 
پابندئی لباس سے آگے نکل گئے

عزیز سامعین!
آج پاکستان میں آزاد خیال ملحد، کمیونسٹ، دہریے زندگی کے ہر معاملے کو عقل اور شعور کے محدود پیمانوں پر پرکھنے کی کوشش میں بے راہ روی پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس پاکستان میں سرعام ٹی وی چینلز پر ایک خاتون ہم جنس پرستی اور بغیر شادی بیاہ کے جنسی تعلقات کی حمایت میں تقریریں کر رہی ہے اور نظریہ پاکستان کے متعلق کہہ رہی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد اس کو دفن کر دینا چاہئے۔ یہاں سے اختلاف جنم لیتا ہے کہ اگر آپ نے کلچر، ثقافت اور تہذیب اور تمدن کی بنیاد پر مادر پدر آزاد زندگی اور سرعام شراب نوشی، عیاشی اور مشترکہ خاوندوں اور بیویوں کے سوشلسٹ انجام کی حمایت میں شور غوغا کرنا ہے تو پھر یہ مت بھولیں کہ پاکستان میں آپ کو ہندوستان کی مدد سے یہ کھیل نہیں کھیلنے دیا جائےگا۔

اسلام میں آسائش اور آرائش تو اپنی وسعت کے مطابق جائز ہے لیکن نمائش ہرگز جائز ہیں۔ اور فیشن سے مقصود آسائش اور آرائش میں سے تو کچھ نہیں البتہ فیشن پرستوں کا ایک مقصد نمود و نمائش ضرور ہوتا ہے اور اس میں بھی عورتیں مردوں کی نسبت نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔

جناب والا!!
پاکستانی فیشن اپنی تہذیب و تمدن کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپنی الگ شناخت اور پہچان رکھتا ہے۔ ہر صوبے کا ایک اپنا رنگ ہے اور ثقافت کی انمٹ داستانوں سے بھرپو ہے۔ حکومت اپنی سطح پر پاکستان کے تمام صوبوں کی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لئے کوششیں کرتی رہتی ہے اس سلسلہ میں سرکاری سطح پر دفاتر اور ادارے بھی کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی تہذیب وثقافت کو زندہ رکھنے کیلئے نجی سطح پرکام کرنے والے اداروں کا کردار بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ جو اپنے محدود وسائل میں رہ کر پاکستانی کلچر کو اصل شکل میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

’’عجب نہیں کہ رہے نیک و بد میں کچھ نہ تمیز
کہ جو بدی ہے وہ سانچے میں ڈھلتی جاتی ہے‘‘

یاد رکھیں فیشن کرنا معیوب نہیں ہے مگر فیشن وہی اپنانا چاہیے جو ہماری اقدار کا محافظ ہو، اس کو خوبصورتی بخشے، ہماری شخصیت کو نکھارنے کا باعث بنے نہ کہ بگاڑنے کا اور ہماری بطور مسلمان پہچان کروائے ورنہ ہمارا حال وہی ہوگا کہ “کوا چلا ہنس کی چا، اپنی چال بھی بھول گیا”
اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمین! شکریہ

Advertisements