صدر گرامی قدرو حاضرین مکرم!

شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی تمام شاعری اوّل تا آخر مسلمانانِ عالم کے لیے ایک پیغام ہے۔ ایک عالمگیر پیغام جس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ دینِ اسلام سے پوری پوری واقفیت حاصل ہو اور کوئی جاہل حضرت اقبال کے پیغام کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ وہ شخص جو اسلام کے زریں اصول اور تاریخ اسلام کا فہم وادراک حاصل کر سکے۔ وجہ میں بیان کرچکا ہوں کہ حضرت اقبال کا کلام ہمیں نئے جہاں سے متعارف کرواتا ہے۔

جناب صدر!
ہم جانتے ہیں کہ حضرت علامہ اقبال پیدا ہی ایک ایسے ذی شان و ذی وقار خاندان میں ہوئے تھے جس میں اسلامی خصوصیات نمایاں طور پر اجاگر تھیں۔ حضرت علامہ اقبال کو شروع ہی سے ایک ایسا جید عالم استاد نصیب ہوا جو صحیح اسلامی دیندار کا قابل تقلید نمونہ تھا۔ میری مراد علامہ سید میر حسن سے ہے جن کا درخشندہ خاندانی خصوصیات اور ابتدائی زدوسیات نے جس اسلامی تخم کی آبیاری کی تھی حضرت اقبال کے وسعت مطالبہ نے اس میں ایسے برگ وبار پیدا کیے کہ ان کے احسانات کا سایہ تادیر قائم رہے گا۔ اور یہ اسی تاثیر کا نتیجہ ہے کہ حضرت اقبال کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ مستقل طور پر ایک جزو کی حثیت اختیار کرچکا ہے۔

میرے عزیز دوستو!
آپ جانتے ہیں کہ شاہیں خوددار ہے اور وہ محض آب و دانہ کے لئے بلندیوں سے نشیب کی طرف نہیں آتا ہے۔ وہ آب و دانہ جو پرواز کو کوتاہ کردے اس کے نزدیک موت ہے۔
حضرت اقبال نے کیا خوب لکھا ہے؀

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

جناب صدر!
حضرت علامہ اقبال کا پیغام اسلام خودداری کا پیغام ہے۔ بندے کو ہزاروں دروازوں سے چھڑا کر ایک ہی چوکھٹ پر جھکاتا ہے۔ جو اس دروازے پر جھک گیا اس کے لئے اور کوئی مقام ایسا نہیں ہے جہاں اس کی کمر خم اور سر نیچا ہو۔ ہرقسم کا جھکاؤ کی خمیدگی صرف ایک ذات کے لیے ہے۔اس کی حکومت حکومت ہے اور اس کی حاکمیت حاکمیت۔حضرت اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا شعر عرض ہے؀

سروری زیبا فقط اس ڈات بے انتہا کو ہے
حکمراں ہے بس وہی باقی بتاں آزادی

صدر ذی وقار!
حضرت علامہ اقبال مسلمانانِ عالم کو خودی کا پیغام دیتے ہیں۔ خودی ایک ایسا لفظ ہے جو ان کے کلام میں ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ خودی انسان کی ذات اور شخصیت کو کہتے ہیں۔ انسان اپنی ذات کو پہچانے اپنے حقیقت معلوم کرے اپنے اور خدا کے تعلق کو سمجھنے اگر اپنی اصلیت سمجھ گیا تو خدا کا سراغ پالینا مشکل نہیں۔ وہ مسلمان میں خودی کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ عجز کمزوری اور بزدلی کو دور کر کے انسان کو اس کے اصل مقام سے آشنا کرانا چاہتے ہیں اور ایسے ہی مسلمان کو جس کی خودی بیدار ہو گئی ہو وہ مردِ مومن کہتے ہیں۔ حضرت اقبال کا فرمانا ہے کہ؀

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

میرے عزیز ساتھیو!
حضرت اقبال کی تعلیمات کو سمجھو اور ان پر پوری طرح عمل پیراں ہوجاؤ کہ اسی میں ہماری ذاتی دقومی بقا کا راز پوشیدہ ہے۔ اگر آج ہماری آنکھیں نہیں کھل سکیں گی تو پھرہمیشہ کے لیے ہمارے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا۔ وہ اقبال فرماگئے ہیں؀

ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا

جناب صدر اسی شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔
فی امانِ اللہ

Advertisements