قابلِ احترام شرکاء عالی صدر محترم!!
آج میں روشنی ڈالنا چاہتا ہوں پاکستان میں بدعنوانی کی بڑھتی ہوئی شرح پر۔ رشوت یا بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے نے دنیا کے ۱۸۰ ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی میں ایک پوائنٹ کی تنزلی ہوئی ہے۔

پاکستان کو اس عالمی فہرست میں نائیجریا اور مالدووا کے ساتھ ۱۹ویں نمبر پر رکھا گیا ہے اور اس کا سکور ۳۲ اور رینکنگ ۱۲۰ ہے۔ عالمی ادارے کی ۲۰۱۸ کی رپورٹ میں پاکستان کا سکور ۳۳ اور رینکنگ ۱۱۷ رکھی گئی تھی اور یہ سکور اس سے پہلے کے دو برسوں سے ایک درجہ بہتر تھا۔ ۲۰۱۹ میں پاکستان ایک مرتبہ پھر سرکاری محکمہ جات میں بدعنوانی کے معاملے میں ۲۰۱۷ اور ۲۰۱۶ کے برابر آ گیا ہے۔

سامعین!
باقی قومیں ترقی کرتی ہیں اور ہم بتدریج واپس پستی کی جانب چل رہے ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ برس سے برسرِ اقتدار تحریکِ انصاف کی حکومت سے مسلسل ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار اور اس سلسلے میں دعوے کرتی رہی ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک سے بدعنوانی کے عناصر کا خاتمہ کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

باوقار لوگو!
پاکستان میں نیب کا بنیادی کام احتساب اور بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی ملکی دولت برآمد کرنا ہے۔ گزشتہ سال میں نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ ریکور کی جانے والی رقم ۷۱ ارب روپے ہے تاہم اس کے بعد اگلے دو، تین ماہ کے دوران ریکوری کا دعویٰ ۷۱ ارب سے بڑھ کر ۱۵۳ ارب کی بالواسطہ یا بلاواسطہ برآمدگی تک پہنچ گیا۔ جس کی تصدیق اس عالمی ادارے نے نہیں کی اور اسے تشویش کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔

المیہ تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو کشتی ملت کا ناخدا بنایا گیا اُنھوں نے طوفاں کی حقیقت سے قوم کو غافل رکھا۔ جب مقتدرہ حضرات ہی کرپشن زدہ ہو چکے ہیں تو ایک عام شہری سے ایمان داری اور دیانت داری کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ اِس کرپشن نے ہمارے ملک کو اس انداز سے نقصان پہنچایا ہے جس طرح دیمک مضبوط ترین لکڑی کو بھی کھا جاتی ہے۔

اخلاقی اقدار اور جذبۂ دردِ دل ایسے خزینے ہیں جو کسی بھی قوم کو قابلِ احترام بناتے ہیں۔محترم سامعین اینٹی کرپشن کا سب سے بڑا ادارہ ہمارے جسم میں دل ہے ۔ضمیر کی عدالت کا جج کرپشن کا احتساب کر سکتا ہے۔ محکمہ انسدادِ رشوت ستانی کے ساتھ قدم بہ قدم تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ امر ایک جہاد ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی عدالت ہمارا ضمیر ہے۔

جس معاشرے یا قوم کا ضمیر مردہ ہوجائے ، احساسِ مروت جاتا رہے ، وہ قوم مسائل میں گھر جاتی ہے ۔ ہمارے من کا سوفٹ ویئر کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اساتذہ قومی ترقی کے ہیرو ہیں۔ نسلِ نو کو سچا مسلمان اور کھرا پاکستانی بنانے کے لیے اساتذہ کی کاوشوں کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اساتذۂ کرام کے علاوہ ، علمائے کرام اور میڈیا کا فرض عین ہے کہ وہ معاشرے سے بے اعتدالی کے خاتمہ کے لیے اپنا فرض قومی ذمہ داری سمجھ کر ادا کریں۔
خدا ہم سب کو انصاف پر مبنی معملات کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین۔
شکریہ۔

Advertisements