Advertisement
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

السلام علیکم حاضرینِ محفل!!
میں حاضر ہوں آپ کی خدمت میں عنوان قسمت پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے۔

احبابِ کرام!!
کہتے ہیں انسان قسمت خود بناتا ہے۔ قسمت ، نصیب ، تقدیر۔۔۔ یہ ایسے الفاظ ہیں جن کے صحیح معنی شاید کچھ ہی لوگوں کو معلوم ہوتے ہیں۔
قسمت سے مراد انسان کی کامیابیاں ، ناکامیاں ، اس کے کام ، اس کی محنت ، محبت وغیرہ وغیرہ ہیں۔ جو اللہ نے انسان کے لیے مقرر کیا ہے۔

Advertisement

عزیز سامعین!!
کہتے ہیں دعا تقدیر بدل دیتی ہے اور محنت سے قسمت بدلی جاسکتی ہے۔ انسان کامیاب تب ہوتا ہے جب وہ اپنی محنت سے اپنی قسمت خود لکھے۔ جس کے متعلق علامہ اقبال کا شعر میں آپ کی خدمت میں عرض کرچکا ہوں۔

Advertisement

احبابِ کرام اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ جو ہماری قسمت میں لکھا ہے ہم وہی کرینگے۔ تو اگر ہماری قسمت میں گناہ کرنا لکھ دیا گیا ہے تو اب ہمیں روزِ آخرت سزا کس بات کی دی جائے گی؟ اللہ تعالی نے ہر شخص کو عقل و شعور دیا ہے اور  اچھی بری بات کی تمیز بھی۔ ایسے میں اگر ہم چاہیں تو برائی کی جگہ اچھائی کو اپنا کر اپنی قسمت تبدیل کرسکتے ہیں۔

Advertisement

عزیز لوگو!!
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے اچھے اعمال پر اپنی محنت کے راگ الاپتے ہیں اور اپنی ناکامی پر قسمت کا رونا روتے ہیں۔
بطورِ بہادر شاہ ظفر :

بلبل کو باغبان سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں

یہاں پر ہمیں وہ بھی قسمت کا رونا روتے نظر آتے ہیں حالانکہ اصل بات تو یہ ہے تقدیر میں تین چیزیں ہی شامل ہیں۔

Advertisement
  • رزق
  • عمر
  • ساتھی

تقدیر دعا سے بدلی جاسکتی ہے لیکن دعا میں اتنا خلوص اور طاقت ہونی چاہیے۔ جب کہ باقی تمام باتیں انسان کی قسمت میں شامل ہیں جو وہ عقل کا استعمال کر کے اور محنت کر کے بدل سکتا ہے۔ انسان اپنی محنت اور عقل سے قسمت کے فیصلے بدل سکتا ہے لیکن تب جب وہ اللہ پر یقین رکھے۔ اسی متعلق اختر نظمی کا شعر پیش کرنا چاہوں گا؀

چھیڑ چھاڑ کرتا رہا مجھ سے بہت نصیب
میں جیتا ترکیب سے ہارا وہی غریب

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ محبوب کے نہ ملنے پر بھی قسمت کو موردِ الزام ٹہرایا جاتا ہے۔

Advertisement
بدقسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہوسکا
ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہوسکا

سامعین کرام!!
اکثر بچوں کو اس لیے ان کے ماں باپ کی طرح تنگ دستی والی زندگی گزارنی پڑتی ہے کیونکہ ان کے والدین انھیں اسکول بھیجنے سے قاصر ہوتے ہیں اور  ایک مرتبہ پھر اس غربت کو قسمت کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔

لوگو! ہمیں یہ بات سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ہر غلط فیصلے اور اس سے ملی ناکامی کو قسمت کا لبادہ نہیں اوڑھا سکتے ہیں بلکہ اللہ پاک نے ہر انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی محنت سے اپنی قسمت تبدیل کرے۔ اللہ پاک ہمیں شعور عطا کرے اور بہتر فیصلے کرنے کی توفیق دے۔آمین۔

Advertisement
Advertisement