ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ
ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے

عزت مآب صدر عظم دوستان ذی من السلام علیکم!
میری آج کی تقریر کا عنوان اخلاق ہے
اخلاق کسی بھی انسان کی زندگی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے۔ اخلاق کسی بھی مذہب مسلک مکتبہ فکر کی میراث نہیں۔ اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں۔ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل شے اخلاق ہے جو ایک نظام کو منظم طریقے سے چلانے کا نام ہے۔ اچھے اور عمدہ اوصاف ہی کردار میں مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں جس سے قبیلوں اور اقوام کے وجود، استحکام اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔ معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے مثبت و منفی معاملات کا گہرا اور براہ راست تعلق ہے۔
ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کائنات میں اخلاقیات کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہیں جس پر اللہ کریم جل شانہ کی کتاب ِ لاریب مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے۔

اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ( القلم ۴)۔
’’بے شک تم بڑے عظیم اخلاق کے مالک ہو۔‘‘

یہاں میں اس بات کو بے جھجھک کہہ سکتا ہوں کہ رسالت مآب ﷺ کی گفتگو و اخلاق سے بیشتر لوگ دائرہ اسلام میں آئے۔
جب ہی اپنے معملات میں ان کی پیروی کرنے کا حکم ہے۔

کہہ لینے دیں مجھے عزیز من!
جس معاشرہ میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا، اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات، اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ جس معاشرے میں جھوٹ اور بد دیانتی عام ہوجائے، وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ جس ماحول یا معاشرے میں اخلاقیات کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں اور جہاں شرم و حیاء کی بجائے اخلاقی باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو اُس قوم اور معاشرے کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔

دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکا ہے۔ معاملہ عبادات کا ہو یا معاملات کا، حقوق و فرائض ہو یا تعلیم و تربیت، امانت، دیانت، صدق، عدل ،ایفائے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کا ہم میں فقدان ہے۔

کہتے ہیں کہ قطرہ قطرہ سمندر بنتا ہے ، چلتے چلتے کارواں بنتا ہے ، دیئے سے دیا جلتا ہے تو روشنی ہوتی ہے۔ اندھیرا دور ہوتا ہے اجالا پھیلتا ہے ، قدم سے قدم ملتے رہیں ، دیے سے دیا جلتا رہے تو یہ کارواں رفتہ رفتہ وسعت اختیار کرتا چلا جائے گا اور اندھیری راہ گزاروں میں نور بکھرتا چلا جائے گا۔

کسی بھی طرح کے حالات میں مایوسی کو پاس نہ آنے دیں کیونکہ مایوسی کفر ہے بلکہ کفر کی ضد، ایمان کی روشنی سے اپنے دلوں کو منور رکھیں اور تعلیماتِ قرآنی کے مطابق اپنے اخلاق و کردار کو سنوارنے کا باقاعدہ عمل جاری رکھیں ان شاءاللہ پھر سے ہمارا وقت آئے گا۔
شکریہ۔