السلام علیکم صدرِ محفل و عزیز سامعین!!
آج کی میری تقریر کا عنوان ہے”کرپشن”

نہیں ہوتی وہاں رحمت خدا کی، نہ ہو وقعت جہاں صدق و صفا کی
ہوئے رشوت کے آگے سر نگوں، سب مثالیں دے رہے تھے کربلا کی

صدر عالی وقار!
اردو میں اس کے معنی بدعملی، بدعنوانی، بداخلاقی، بگاڑ اور بدکاری استعمال ہوتے ہیں، جب کہ عربی میں ’’کرپشن‘‘ کا لفظ الفساد، انحراف اور مفسد کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ کرپشن کا لفظ ہر زبان، ہر ملک اور ہر معاشرے میں گھناؤنے اور منفی کاموں کے لیے بولا جاتا ہے اور ناپسندیدگی کے ساتھ اس کا اظہار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی صورت بھی اچھا عمل نہیں ہے۔

کرپشن یا بد عنوانی صرف رشوت اور غبن کا نام نہیں۔ اپنے عہد اور اعتماد کو توڑنا یا مالی اور مادی معاملات کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنا بھی بدعنوانی کی شکلیں ہیں۔ ذاتی یا دنیاوی مطلب نکالنے کے لئے کسی مقدس نام کو استعمال کرنا بھی بد عنوانی ہے۔

ہمارا معاملہ یوں ہے کہ کرپشن کسی جڑواں بچے کی طرح پاکستان کے بنتے ہی ساتھ آ گئی تھی۔ وہ لوگ جو آج معاشرے میں امتیازی حیثیت کے مالک ہیں، پاکستان کے ابتدائی دنوں کی تاریخ کو بڑی احتیاط سے چھپاتے ہیں۔ یہ لوگ کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات اور پیدائش پر بات نہیں کرتے۔ یہ پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا وہ افسوس ناک باب ہے جس میں ہماری کرپشن، موقع پرستی، مذہبی بلیک میل اور بے حسی کی جڑیں چھپی ہیں۔

سامعین کرپشن نام ہے نفس کی غلامی کا، ذہنی گدلے پن کا اور خواہشات کی تابعداری کا۔ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں جہاں عدل و انصاف کا قیام ہونا تھا، جہاں محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑے ہونا تھا، جہاں رنگ و نسل اور ذات پات کی تقسیم کے بغیر نظامِ تعلیم و تدریس اور نظامِ حکومت و اقتدار کا قیام ہونا تھا۔ وہاں کرپشن کا راج ہے۔ وہ رشوت ہو یا سفارش، ہوس پرستی ہو یا زرپرستی، کسی کا مال ضبط کرنے کی چاہت ہو یا بلیک میلنگ کی روش، اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ ہو یا بجلی و گیس کے بلوں میں اضافے کا ظلم، فرد کی ذاتی زندگی سے لے کر افراد کی اجتماعی زندگی تک سب کے سب کرپشن کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ساتھیو!
رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں ہی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ جب ہم رشوت دینا چھوڑ دیں گے اور اپنے کاموں کے لئے قانونی طریقہ کار اختیار کریں گے تو بڑی حد تک کرپشن میں کمی ممکن ہے اور رہا سوال کرپٹ سیاسی رہنماؤں کا تو آئندہ آنے والے عام انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے ان تمام کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو رد کریں اور ملک و قوم کے لئے ایماندار اور بہتر نمائندوں کا انتخاب کریں۔
منیر نیازی نے کیا خوب کہا ہے؀

کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی

حاضرینِ محفل
ہمیں اپنے اسکولوں مدرسوں اور تمام تعلیمی اداروں میں چھوٹی چھوٹی بد عنوانیوں کے متعلق اپنی نئی نسل کو آگاہ کرنا ہوگا اور عملی طور پر ان سے بچتے رہنے کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا۔ اللہ کے نزدیک بدعنوانی ، بدعنوانی ہے چھوٹی یا بڑی نہیں۔ ہمیں ان بدعنوانوں سے کچھ نہیں لینا جو اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں اور اگلے جہان میں بھی بھگتیں گے۔

ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا محال ہوگا
وہ دن گئے کہ جب ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے۔
اٹھے گی ہم پر جو اینٹ کوئی تو پتھر اس کا جواب ہوگا
حساب ہوگا حساب ہوگا حساب ہو گا حساب ہو گا۔

آپ سب کے وقت کا شکریہ۔

Advertisements