جناب صاحب محفل اور ساتھیو!
آج میری تقریر کا عنوان ہے لیڈر شپ۔

لیڈر شپ کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ ذہانت، انسانی تفہیم اور اخلاقی کردار کی ان صلاحیتوں کا مرکب ہے جو ایک فردِ واحد کو افراد کے ایک گروہ کو کامیابی سے متاثر اور کنٹرول کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ لیڈرشپ کبھی بھی آسان نہیں ہوتی۔ کوئی لیڈر اپنے کام میں کتنا بھی ماہر کیوں نہ نظر آئے، اس کی راہ ہمیشہ چیلنجز اور حیرتوں سے پُر ہوتی ہے۔ تاہم، لیڈر چیلنج کا مقابلے کبھی بھی تنہا نہیں کرتا۔ قیادت کی تعریف ہی یہی ہے کہ قائد کے ساتھ ایک گروہ یا تنظیم ضرور ہوتی ہے جو ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے اور ہر ہدف کو حاصل کرنے کے لئے کام کر رہی ہوتی ہے۔ لیڈر کا کام بھی ہر مسئلے کو تنِ تنہا حل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اپنی اقتداء کرنے والوں کو ان مسائل کے حل کرنے کے لئے تحریک فراہم کرنا ہوتا ہے۔

شاعر نے کیا خوب کہا؂

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی 
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

عالی وقار!
حقیقی لیڈر وہ ہوتے ہیں جن میں کسی معاشرے کے انفرادی ارکان کی اجتماعی خواہشات اور توقعات کا پتہ چلانے کے لئے ضروری مگر کامیاب ذہانت اور دوراندیشی کی خصوصیات موجود ہوتی ہیں، تب وہ انفرادی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے کر انہیں اجتماعی مفادات کے حصول کی جدوجہد میں شامل کرنے اور میڈیا کے ذریعے انہیں معاشرے کے مختلف طبقات کے سامنے ایسے انداز میں پیش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں جس سے ان کے جذبات کو تحریک ملے اور وہ اس کی حمایت کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔

کسی مضبوط لیڈر کا تصور کرتے ہی ہمارے پردئہ تخیل پر ایک ایسے فرد کی تصویر ابھرتی ہے جو لوگوں کو مختلف گروہوں میں منقسم نہیں کرتا یا جو زورِ خطابت یا دوسرے جذباتی حربوں سے لوگوں کو اپنے مقام کا قائل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔

سامعین!
نظریاتی تعریف کے مطابق، قیادت ایک فرد یا افراد کے ایک گروہ کی وہ اہلیت ہے جو انہیں عوام کو متاثر کرنے اور ان کے تجویز کردہ راستے کو درست سمجھنے پر آمادہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ سیاسی قیادت کو عمومی طور پر ایک پسندیدہ خصوصیت سمجھا جاتا ہے، ماسوائے اس صورت کے کہ جب ایک لیڈر اپنی حیثیت و مرتبے کے غرور میں اتنا مست ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو اپنی جماعت یا انتخاب کنندگان کے سامنے جوابدہ قرار دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ بعض رومانی یا فسطائی فلسفوں کے مطابق، قیادت ایک خصوصی حیثیت حاصل کر سکتی ہے لیکن عام جمہوری سیاست میں اسے سیاسی عمل کا ایک عمومی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

خواتین کی لیڈرشپ میں ہمیں یہی اوصاف نظر آتے ہیں۔ جب خواتین کو کسی ایسے ماحول میں کام کرنا پڑے جو ان اوصاف کے لئے سازگار نہ ہو تو انہیں خود کو ثابت کرنے کا موقع نہیں ملتا اور وہ بھی قیادت آزمانے پر آمادہ ہو جاتی ہیں اور پھر اس میں بھی اتنی مہارت حاصل کر لیتی ہیں کہ سسٹم انہیں قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اسی دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا مالک کرم کرے اس گلستان پر میری قوم میں باصلاحیت بچے جنم لیں۔۔۔آمین
شکریہ۔

Advertisements