سامعین محترم صدر ذی وقار!
آج جس موضوع پر مجھے لب کشائی کرنی ہے وہ ہے سانحہ پشاور۔
اس دن جب دہشت ناک واقعہ پیش آیا تو آرمی پبلک اسکول پشاور کے اساتذہ اور طالبعلم وقفے کے بعد اسی وقت اپنی کلاسز میں پہنچے تھے۔ کچھ طالبعلم بشمول ۱۸ سالہ یاسر اقبال، بڑے آڈیٹوریم میں جمع ہوئے اور پوری توجہ سے ایک لیکچر سن رہے تھے۔

دیگر اپنی ڈیسکوں پر بیٹھے تھے اور ان کی نگاہیں بلیک بورڈ کے بجائے گھڑی پر تھیں، وہ چاہتے تھے کہ دن تیزی سے گزرے تاکہ وہ گھروں کو جاسکیں۔ پہلی جماعت کی چھ سالہ خولہ کا اسکول میں پہلا دن تھا۔ وہ بہت زیادہ خوش تھی کہ آخرکار وہ گھر میں رہنے کی بجائے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ اسکول میں شامل ہوگئی ہے۔ یہ اس کا اسکول میں پہلا اور آخری دن تھا۔

خولہ ان ۱۴۴ ناموں میں سے ایک تھی، وہ طویل فہرست جسے قاتلوں کے گروپ نے اس دن اسکول میں مرتب کیا، جس میں اکثریت بچوں کی تھی۔ خون کی اس غیر منظم ہولی جس میں ہدف بننے والوں کی مظلومیت کو جمع کیا جائے تو یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے خوفناک حملہ ثابت ہوتا ہے۔

نمبر ۱۴۴ بذات خود ایک کہانی ہے مگر اس کے اندر ۱۴۴ کہانیاں چھپی ہیں جنھیں بیان کیا جانا چاہئے۔ ۱۶ دسمبر ۲۰۱۴ کو سفاک دہشتگردوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا، تحریک طالبان پاکستان کے ۶ خود کش حملہ آور خود کار اسلحے سے لیس اسکول میں داخل ہوئے اور حصول علم میں مصروف بچوں پر اندھا دُھند فائرنگ کر دی۔ سیکیورٹی فورسز نے ۶ گھنٹے سے زیادہ کے آپریشن کے بعد اسکول کو کلیئر کیا، سانحے میں بچوں سمیت ۱۴۴ سے زائد افراد شہید ہوئے۔

عالی وقار!
واقعے کے بعد پوری پاکستانی قوم دہشتگردوں کے خلاف یکجا ہوئی اور ملک میں موجود دہشتگردوں کے صفائے کا مطالبہ کیا، حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے سر جوڑا اور نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیا اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا۔ آپریشن کے دوران شمالی وزیرستان سے دہشتگردوں کا صفایا کیا گیا۔

سانحہ اے پی ایس کو چھ سال مکمل ہو گئے ہیں لیکن دل ہلا دینے والے واقعے میں شہید بچوں کے والدین آج بھی اپنے جگر گوشوں کو یاد کرتے ہیں تو ان کے آنسو نہیں تھمتے۔ تاہم متاثرہ والدین کے دلوں کو سکون ہے کہ وہ دوسرے والدین سے ممتاز ہیں، شہداء آرمی پبلک اسکول کی قربانیوں کے باعث ملک سے جہاں دہشتگردی کا خاتمہ ہوا وہیں علم دشمنوں کے عزائم خاک میں مل گئے۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی پانچویں برسی پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سماجی تنظیموں کی جانب سے کراچی میں شمعیں روشن کی گئیں۔ سماجی تنظیموں اور اسکاؤٹس کے تحت سانحہ اے پی ایس پشاور کے شہداء کی پانچویں برسی پر جوہر موڑ گلستان جوہر پر تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

دشمن نے ہمارے پھولوں کو روندا ہے جن کا دکھ ہمیں ساری عمر رہے گا۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا نقصان اس ایک حال میں ہوا۔۔۔
دعا ہے کہ ملک بھر میں امن ہو اور پاکستان دہشت گروں کے خلاف کاروایاں کرتا رہے۔
آمین
شکریہ.

Advertisements