جناب صدر میرے عزیز ساتھیو!

السلام علیکم!

آج کی میری تقریر کا عنوان ہے "سینٹ ویلنٹائن ڈے” جسے "ویلنٹائن ڈے” بھی کہتے ہیں۔

سینٹ ویلنٹائن کا تہوار محبت کے نام پر مخصوص عالمی دن ہے۔ اسے ہر سال ۱۴ فروری کو ساری دنیا میں سرکاری، غیر سرکاری، چھوٹے یا بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے کو پھول اور تحائف دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ بہن بھائیوں، ماں باپ، رشتے داروں، دوستوں اور استادوں کو پھول دے کر بھی اس دن کی مبارکباد دیتے ہیں۔

چند لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ محبت ایک آفاقی جذبہ ہے اس کو ایک دن تک محدود کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ محبت کا جذبہ دن اور تاریخ سے ماورا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں تقریباً ایک دہائی سے ویلنٹائن ڈے کو زور و شور سے منانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت اس بارے میں خاص رائے قائم نہیں کرسکی۔ اس دن کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کی ہمارے معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے، جس نے اس دن کو منانا ہے وہ کسی ایسے ملک کا رُخ کرے جہاں یہ باتیں معیوب نہیں سمجھیں جاتیں۔ کچھ دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں لبرازم بڑھ رہا ہے جو کہ کسی حد تک ٹھیک ہے مگر اس تہوار کی ہمارے معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

عزیز سامعین!!
اِس دن شہر کی سڑکوں پر عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پھولوں کی دکانوں سے پھول اچانک غائب ہوجاتے ہیں، بس اسٹاپ پر منچلے لڑکے لڑکیوں سے چھیڑ خانی کرتے اور پھول پھینکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ تمام پارکوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور اِس دن کے لحاظ سے لڑکیوں نے سرخ لباس زیبِ تن کیے ہوتے ہیں تاکہ اِس دن سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوا جاسکے۔ اِب یہ ایک فیشن بن گیا ہے اور پاکستان میں ہر کوئی اِس فیشن کو اپنانے کے لئے سرگرداں ہے۔

ویلنٹائن ڈے کیا ہے؟

جناب والا!
یہاں اِس کا ذکر انتہائی ضروری ہے خصوصاً نئی نسل کے لئے جو ایسے فیشن اختیار کرتی ہے اور ایسے ایام خوشی سے مناتی ہے جو ہمارے ہیں ہی نہیں بلکہ اُس تہذیب سے بھیجے گئے ہیں جسے دیکھ کر ہم شرم سے جھک جاتے ہیں۔

آج مسلمانوں کے اندر جو سب سے زیادہ غیر مسلم تہوارات منائے جاتے ہیں، ان میں سے ایک ویلنٹائن ڈے ہے۔ اس دن غیر شادی شدہ جوڑے تمام اخلاقی حدوں کو توڑ کر اپنے چاہنے والوں کو محبت کا پیغام دیتے ہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا تہوار ہے جس نے شرم و حیا کو بلکل ختم کر دیا ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا :

”جب تم میں شرم و حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کرو”۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب)
اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے” (سنن ابوداؤد۔ مسنداحمد)

کفار کی عیدیں اور تہوار بہت ہیں ہم پر ان کی تحقیق واجب نہیں البتہ اس خاص کام یا دن کی تعظیم اسلام میں نہیں ہے بلکہ لوگوں نے اسے اپنی طرف سے بنا لیا ہے یا کفار سے اخذ کر لیا ہے۔ لہذا اس کا حکم کم از کم یہ ہو گا کہ یہ بدعت ہے۔ کاش ان فرامین کی روشنی میں ہم مسلمان اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ مالک ہم سب کو اسلام کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements