جنابِ صدر اور میرے عزیز دوستو! السلام علیکم! آج میری تقریر کا عنوان حکومت و ریاست جموں و کشمیر کا یومِ تاسین ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے شمال میں جمہوریہ چین، شمال مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں اسلامیہ جمہوریہ پاکستان اور جنوب مشرق میں انڈیا کی سر حدیں منسلک ہیں۔ ان تمام ممالک کے درمیان گھرا ہوا یہ ساڑھے چار ہزار سال پرانی تاریخ رکھنے والا خوبصورت ترین علاقہ جسے ایشیاء کا سویٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے بدقسمتی سے مختلف ادوار میں غلامی، ظلم، جبر، ناانصافی اور استحصال کا شکار رہا۔

جنابِ من!
ریاست کے آزاد علاقوں میں قائم کی جانے والی انقلابی عبوری حکومت کے بانی صدر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان نے اپنے ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء کے اعلان میں ارشاد فرمایا تھا کہ :
’’عوام کی متحدہ قوت اور اجتماعی منشاء ڈوگرہ ظالم حکمران کی افواج کی منظم دہشت گردی اور تشدد پر غالب آگئی ہے اور وہ اور اسکا وزیراعظم کشمیر سے بھاگ گئے ہیں اور شاید جلد ہی جموں سے بھی بھاگ جائیں گے۔‘‘

’’ریاست کی دونوں ہمسایہ مملکتوں یعنی پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کے الحاق کا فیصلہ ریاست کے عوام اپنی آزانہ منشاء اور ووٹ سے رائے شماری کے ذریعے کریں گے اور عبوری حکومت اس مقصد کے لیے جلد ہی انتظامات کرے گی اور وہ غیر جانبدار مبصرین کو بھی مد عو کریگی تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ عوام نے اپنی آزادانہ منشاء سے الحاق کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان ، بانی صدر آزاد جموں وکشمیر نے اپنے ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء کے اعلان میں مزید ارشاد فرمایا :
’’عبوری آزاد حکومت جو چند ہفتے قبل عوام نے اس مقصد کے لیے قائم کی تھی کہ ڈوگرہ راج کے ناقابلِ برداشت مظالم اور اس کی زیادتیوں کا خاتمہ کیا جائے اور ریاست کے عوام بشمول مسلمان ،ہندوؤں اور سکھوں کو حکومت خود اختیاری کا حق حاصل ہوسکے، نے ریاست کے بیشتر علاقوں پر اپنا اقتدار مستحکم بنیادوں پر قائم کر دیاہے اور اسے توقع ہے کہ ڈوگرہ راج کے زیرِ تسلط ریاست کے بقیہ علاقوں کو بھی جلد آزاد کرالیا جائیگا۔‘‘

ہم وطنو!
آزاد کشمیر میں یوم تاسیس کا آغاز ۲۱ توپوں کی سلامی سے ہوتا ہے۔ مرکزی تقریب پولیس گراؤنڈ میں شروع ہوتی ہے جس میں صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر شریک ہوتے ہیں۔ جب کہ صدر آزاد کشمیر پریڈ کا معائنہ کرتے ہیں۔

یوم تاسیس پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر اسی مسئلے کو اٹھاتے ہوئے  مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کروانے کا کہتے ہیں۔ آزادی کی جدوجہد کشمیر کی مکمل آزادی تک جاری رکھنے کا عزم بڑھاتے ہیں، اقوام متحدہ کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کی یاد دہانی کرتے ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر اپنے خطاب میں شہدائے کشمیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کشمیری عوام کو نہیں بھول سکتے جو ۷ لاکھ فوج کے سامنے نہتے ڈٹے ہوئے ہیں۔

یوم تاسیس کے حوالے سے مظفرآباد سمیت آزادکشمیر کے مختلف شہروں میں جلسے جلوس اور ریلیوں کا سلسلہ برسوں سے جاری و ساری ہے۔
اللہ کرے کشمیری عوام کو آزادی اور سکھ کی سانس نصیب ہو۔
آمین ثم آمین۔
شکریہ۔

Advertisements