صدر ذی وقار میرے پیارے ساتھیو!
السلام علیکم!! آج کی میری تقریر کا عنوان  زندگی (حیات) ہے اسی پر آپ کی سماعتوں کا طالب ہوں۔

جناب والا!
کرہ ارض پر زندگی کا آغاز تقریباً تین ارب اسی کروڑ سال پرانا ہے۔ یہ آغاز کیسے ہوا یہ بھی ایک سوال ہے۔ جس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ مذہبی مفکرین سے لے کر سائنس دانوں تک سب اہلِ دانش نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ زندگی کے بارے میں پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ زندہ شے خود بخود براہ راست بے جان چیزوں سے جنم لیتی ہے۔ جیسے مثلاً شوربہ خراب ہو کر جراثیم کو جنم دیتا ہے یا گوشت گل سڑ کر کیڑوں کو۔ اس نظریہ کی تردید سترویں صدی عیسویں میں اٹلی کے سائنس دان فرانسکو ریڈی نے عملی ثبوت مہیا کر کے کی۔ اس نے ثابت کیا کہ کیڑے گوشت کے اندر سے جنم نہیں لیتے، بلکہ اس پر مکھیوں کے دیے گئے انڈوں سے جنم لیتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ نظریہ یہ بھی پیش کیا گیا کہ زمین پر زندگی ستاروں پر سے آئی ہے۔ اس نظریہ کے مشہور مبلغ ایرک وان ڈینی گن ہیں۔ ان کا موقف یہ کہ لاکھوں سال پہلے کوئی مخلوق ( دیوتا ) کسی دوسرے سیارے سے زمین پر آئی، اس نے انسان کو جنم دیا اور واپس چلی گئی۔ اس نے بے شمار سائنسی اور اثری شواہد سے اپنے نظریہ کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر زندگی کو یا صرف نسل انسانی کو جو کسی سیاروں پر سے آئی ہوئی چیز ثابت کرنے والے مبلغ اس بابت خاموش ہیں کہ اس دوسرے سیارے پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا۔

زندگی مادے کے اندر موجود اجتماع ضدین کے درمیان باہمی کشمکش کی حرکت کے نتیجے میں ظاہر ہوئی ہے۔ ظہور زندگی کا سبب مادے کے اندر موجود ہے اور مادے کے اربوں سالوں پر پھیلے ارتقا کے نتیجے میں زندگی ظہور آئی ہے۔

جناب صدر!
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اور زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ بچے کی پیدائش بلکہ پیدائش سے بھی پہلے کے مراحل یعنی نکاح شادی (جن کے نتیجے میں اولاد ہوتی ہے) سے لے کر کفن دفن تک اور حصول علم سے لیکر کائنات کے متعلق تحقیق کرنے تک اسلام ایک مکمل پیکج ہے۔ اسلام ضابطہ تو ہے ہی مگریہ ضابطہ کئی ضوابط کا مجموعہ ہے۔ جس طرح سے ایک آئین ہوتا ہے اور عدلیہ اس آئین کی تشریح کرتی ہے اور تشریح کا دائرہ ہے جس کے اندر رہتے ہوئے ممکنہ تشریحات ہوسکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح اسلام نے بنیادی اصول و ضوابط بتا دیئے ہیں اور بنیادی احکامات کے علاوہ تمام مسائل میں تشریح کا راستہ کھلا رکھا ہے۔

عزیز سامعین کرام!!
ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اسلام کے بتائے طریقے پر عمل کرتے ہوئے گزاریں کیونکہ اس سے بہتر طریقہ موجود ہی نہیں۔ زندگی گزارنے کا جو طریقہ اللہ نے بتایا ہے اس میں بہت سی حکمتیں چھپی ہیں جو انسان کے سامنے آئیں تو انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس بات کی ایک مثال ہمارا وضو کا طریقہ ہے جس کے متعلق ایک سائنس دان کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے خود کو صاف کرنے سے ہم لاتعداد بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔ اسی طرح اب رب کو سجدہ کرنے سے بھی ہمارے دماغ تک خون پہنچتا ہے جو صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم سجدے کی حالت ہوں۔ ایسے ہی بہت سے  زندگی کے معاملات ہیں جہاں اسلام ہماری  رہنمائی کرتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنی زندگی اس کی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements