کسی خاص علاقے میں قوموں کی عکاسی کرتی رنگ برنگ خوشبو و ذائقے دار روایات کو یکجا کر دیا جائے تو ثقافت بن جاتی ہے یہی میری تقریر کا موضوع ہے۔

اجازت طلب عزت مآب صدر عزیز!
پاکستان کی ثقافت برصغیر پاک و ہند اور وسعطی ایشیاء کی ثقافت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ متعدد نسلی گروہوں پر مشتمل ہے۔ جنوب میں پنجابی ، سرائکی ، پوٹھواری ، کشمیری ، سندھی ، مہاجر ، مکران۔۔۔ مغرب میں بلوچ ، ہزارہ اور پشتون۔ اور شمال میں دارڈز ، واکی ، بلتیس ، شنکی اور بروشو کمیونٹیز۔ ان پاکستانی نسلی گروہوں کی ثقافت نے اس کے بہت سے پڑوسی ممالک ، جیسے دوسرے جنوبی ایشین ، ایرانی ، ترک کے ساتھ ساتھ وسط ایشیاء اور مغربی ایشیاء کی عوام کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔

لباس، کھانا اور مذہب جیسے ثقافتی پہلوؤں میں نسلی گروہوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں ، خاص کر جہاں اسلام سے پہلے کے رواج اسلامی طریقوں سے مختلف ہیں۔ ان کی ثقافتی ماخذ سے دور دراز اور دیسی علاقوں کے اثرات بھی سامنے آتے ہیں ، بشمول قدیم ہندوستان اور وسطی ایشیاء۔ پاکستان برصغیر پاک و ہند کا پہلا خطہ تھا جس نے لوگوں پر پوری طرح سے اسلام کا اثر ڈالا اور اس طرح ایک الگ اسلامی شناخت تیار کی جو تاریخی اعتبار سے مشرق کے علاقوں سے مختلف ہے۔

میرے ساتھیو!
شاعری پاکستان میں ایک انتہائی قابل فن اور پیشہ ہے۔ پاکستان میں اشعار کی نمایاں شکل تقریباً فارسی زبان میں ہی نکلتی ہے ، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس خطے کے حکمرانوں نے غیر ملکی فارسی ثقافت کے کچھ پہلوؤں کی دیرینہ وابستگی اور بھاری تعریف کی تھی۔ علاقائی سطح پر بھی شاعری کا جوش و خروش موجود ہے ، پاکستان کی تقریباً تمام صوبائی زبانیں میراث کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ۱۹۴۷ میں ملک کی آزادی اور اردو کو بطورِ قومی زبان کے قیام کے بعد سے اس زبان میں بھی شاعری لکھی گئی ہے۔

اردو زبان میں شاعری کی بھرپور روایت ہے اور اس میں مشہور شاعر علامہ محمد اقبال (قومی شاعر) ، میر تقی میر ، مرزا اسد اللہ خان غالب ، فیض احمد فیض ، احمد فراز ، حبیب جالب ، جزیب قریشی ، اور احمد ندیم قاسمی شامل ہیں۔

متنوع صوبائی لوک میوزک اور روایتی انداز جیسے قوالی پاکستانی موسیقی کی مختلف قسمیں ہیں جو مرد تالیاں بجاتے ، گاتے اور ڈھول بجاتے ہیں اور غزل گائیکی کو روایتی اور مغربی موسیقی کو میوزک کہتے ہوئے جدید شکلوں تک ادا کیا جاتا ہے۔

رقص میں پنجاب میں بھنگڑا، خیبر والے علاقے میں خٹک ڈانس، بلوچستان میں جھومر، سندھ میں دھمال وغیرہ منفرد ہیں۔ ۱۶ویں سے ۱۸ویں صدی کے دوران مغل پینٹنگ تیار ہوئی ، جو فارسی نقائص سے بہت زیادہ متاثر ہوئی۔ پاکستانی گاڑی آرٹ ایک مشہور لوک فن ہے۔
شاعر نے کیا خوب کہا ثقافت تو محبت کی ہوتی ہے؀

دل محبت کی ثقافت کا ازل سے ہے امیں 
اس شہنشاہ کو نفرت نہ سکھاؤ صاحب

جی ہاں ساتھیو!
دیگر کھانوں میں سبزیوں اور گوشت کا اپنا اپنا ذائقہ ہے جو جہاں میں منفرد ہے۔ ۱۴ اگست کو ملک پاکستان کی آزادی کا تہوار بھی سب سے مختلف طور منایا جاتا ہے۔ ۲۳ مارچ کی پریڈ اور ٦ ستمبر کی تقریب میں اپنے ہتھیاروں کی بھی نمائش کی جاتی ہے۔

پاکستانی ٹیلیوژن نے بھی اپنے وقت میں معاشرتی اصلاحی ڈرامے قوم کو دیئے۔ بہت سے مہینوں کا اپنا اپنا جشن تہوار بھی موجود ہے اور ملک میں عیدین بھی منائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں طرح طرح کی چائے بنانے کا فن بھی موجود ہے۔

پاکستان کی ثقافت بہت سی ثقافتوں سے مل جل کر بنی ہے جس میں ہمیں ہر خطے کے لوگوں کا رنگ نظر آتا ہے۔ ہمیں اپنی ثقافت سے محبت کرنی چاہیے اور اس کے مثبت پہلوؤں کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہیے۔
شکریہ۔

Advertisements