محترم جناب صاحب تقریب میرے ساتھیو!! السلام علیکم! آج کی میری تقریر کا عنوان انسانی حقوق ہے۔

ہر انسان انصاف، امن، محبت اور خوشحالی کا طلب گار ہے۔ ہر کوئی ناانصافی، بدامنی، نفرت اور غربت کو برا سمجھتا ہے۔ معاشرے میں تمام قانون، ادارے اور ضابطے اسی لیے بنائے جاتے ہیں کہ انسانوں کو انصاف، امن اور خوشحالی مل سکے اور بدامنی، ناانصافی اور محرومی کا راستہ روکا جاسکے۔ بس اسی کا نام انسانی حقوق ہے۔

انسانی حقوق آزادی اور حقوق کا وہ نظریہ ہے جس کے تمام انسان یکساں طور پر حقدار ہیں۔ آفاقی فلسفے میں انسانی حقوق اس طرح ہمیشہ سے بنیادی ضرورت رہتے ہیں اور حقوق کے حصول کے لیے کسی بھی خطے یا معاشرے میں انسانی اخلاقیات، انصاف، روایات اور قدرتی طور پر سماجی عوامل کا مضبوط اور مستحکم ہونا ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے نظریے کو اسی وجہ سے یا تو معاشرتی طور پر عوامی رائے اور قومی و بین الاقوامی قوانین کی مدد سے نافذ کیا جاتا ہے۔

میرے عزیز سامعین، تعریف کی رو سے انسانی حقوق ایک وسیع مضمون ہے اور اس بارے اختلاف رائے پایا جاتا ہے کہ خصوصی طور پر ایسے کونسے حقوق ہیں جو انسان کا بنیادی حق مانے جائیں یا رد کر دیے جائیں۔ خطوں، معاشروں اور ترقی کے اعشاریہ کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات اور حقوق کی اشکال تبدیل ہوتی ہیں۔

ساتھیو! ’حق ‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا لغوی مطلب ہے، ’درست‘ اور ’صحیح‘۔ گویا انسانی حقوق کا مسئلہ دراصل اخلاقیات سے تعلق رکھتا ہے۔ اصطلاحی معنوں میں انسانی حقوق سے مراد ایسے قوانین، اقدار اور ادارے ہیں جن پر تمام انسانوں کو یکساں استحقاق حاصل ہے۔ اس ضمن میں بنیادی شرط صرف انسان ہونا ہے۔ رنگ، نسل، مذہب، جنس، زبان، ثقافت، سماجی مقام، مالی حیثیت اور سیاسی خیالات کے فرق سے کسی فرد کے انسانی حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

عالی وقار! سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تاریخی خطبہ میں جن بنیادی انسانی حقوق سے وصیت وہدایت فرمائی ان میں انسانی وحدت ومساوات کا مسئلہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، ارشاد نبوی ہے : "اے لوگو! یقیناً تمہارا پروردگار ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، یقینا تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی اور پاک باز ہو، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری نہیں مگر تقویٰ کی بنا پر..” اور فتح مکہ کے موقع پر ایک اہم خطبہ میں اسی طرح کا حکم ارشاد فرمایا۔ اسی طرح ارشاد ربانی ہے : "لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (یعنی اوّل) اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلادئیے.”

دوسری جگہ ارشاد ہے: "لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قوم اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو، اور خدا کے نزدیک تم میں سے قابل اکرام اور عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو۔”

ساتھیو! تاریخ کا پہیہ واپس نہیں موڑا جاسکتا۔ یہ امر طے ہے کہ انسانیت کا قافلہ جن وادیوں میں بھی پہنچے گا اسے انسانی مساوات، انفرادی آزادیوں، اجتماعی ذمہ داریوں اور اخوت کے پیڑوں کی چھاؤں درکار ہوگی۔ یہ حقیقت ایک خواب بھی ہے اور ایک انفرادی اور اجتماعی فریضہ بھی۔انسانی حقوق سب انسانوں کے لیے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے سب انسانوں کو جدوجہد کرنا ہوگی۔ آپ سب کا شکریہ۔ فی امان اللہ

Advertisements